function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

اے اللہ! میں حاضر ہوں

کرنل اشفاق حُسین | سفر نماز حج

ہم

نے پہلے ایک ہوٹل ڈھونڈا۔ سامان وہاں رکھا اور چلے خانہ کعبہ کی طرف‘ وہ گھڑی آنے کو تھی جس کا اشتیاق تھا۔ وہ گھر سامنے تھا جہاں سے بلایا گیا تھا۔ مرکزیقین‘ مرکز روح و شفا‘ مرز مہر و وفا‘ ہم مقناطیس کی طرح اس کی طرف کھنچتے چلے گئے۔

یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے‘ یہ بڑے نصیب کی بات ہے… ہم برآمدے سے نیچے اتر آئے۔ رہا نہیں گیا‘ آنسو برساتی آنکھوں کے ساتھ سجدے میں گر پڑے۔ بیت اللہ میں داخلے کے بعد افضل ترین عبادت طواف کعبہ ہے۔یعنی تحیتہ المسجدکی جگہ بھی طواف ہی کرنا چاہیے لیکن یہ ایک بے اختیاری فعل تھا۔ وہ سارا جلال‘ وہ سارا جمال جو سنتے آئے تھے‘ ہمارے چاروں طرف موجزن تھا۔ اللہ اکبر‘ اللہ اکبر لیکن سر اُٹھانے کی ہمت نہیں تھی۔

وہ مالک کائنات جوسب جہانوں کا رب ہے‘ کتنا عظیم ہے اور ہم کتنے حقیر‘ چھوٹے‘ بے مایہ ‘ بے حقیقت! ذرا ذراسی بات پر اس کے احکام بھلا بیٹھتے ہیں‘ جسارتیں کرتے ہیں‘ گستاخیاں‘ بدتمیزیاں‘ خلاف ورزیاں‘ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ہر وقت دیکھ رہاہے۔ اس نے پھر بھی اپنے ہاں بلایا تھا۔ سبحان ربی الا علیٰ پاک تو صرف میرے رب کی ذات ہے

جو اعلیٰ ہے‘ بلند و برتر… اے اللہ معاف فرما دے۔ بلایا ہے تو مان بھی رکھ۔ معاف کر دے۔ تو عظیم ہے‘ تو کریم ہے‘ تیری شان جل جلالہ۔
دیر بعدسر اُٹھایا تو آنسوئوں کے پیچھے سے خانہ کعبہ دھندلایا ہوا نظر آیا۔ جیسے خوبصورت تصویر کے اوپر مہین کاغذ کا حجاب۔ بعض اوقات قربتیں بھی منظر دھندلا دیتی ہیں ؎
اس انتہائے قرب نے دھندلا دیا مجھے
کچھ دور ہو کہ دیکھ سکوں تیرا بانکپن
آنکھیں میچ کرآنسوگرائے‘ تو منظر واضح ہو گیا۔ خوبصورتی اور نکھر گئی‘ حسن اور نمایاں۔ درمیان میں سیاہ غلاف میں ملبوس خانہ کعبہ تھا اور اس کے اردگرد‘ سفید سفید احرام اور عبائوں میں ملبوس پھیرے لیتے ہوئے انسانوں کا ہجوم…
طواف کی سائنس

جانے اس طواف میں کیا مصلحت ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو یہ کائنات تخلیق فرمائی‘ اس میں طواف کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ہر ذرہ اپنے مرکز کے گرد گھوم رہا ہے۔ زمین خود اپنے محور پر اور سورج کے گرد بھی گھوم رہی ہے۔ چاند زمین کے طواف میں مصروف ہے۔ ہمارے شمسی نظام کے تمام سیارے سورج کے اردگرد گھوم رہے ہیں۔ سورج ہے کہ وہ بھی اپنے مدار میں کسی سمت رواں دواں ہے۔

ماہرین فلکیات نے اب دریافت کیا ہے کہ نہ صرف سورج بلکہ وہ تمام تارے جن کو ثوابت (Fixed stars)کہا جاتا ہے۔ ایک رخ پر چلے جا رہے ہیں۔ ثوابت کی رفتار کا اندازہ ۱۶ سے ۱۶۰ کلومیٹر فی سیکنڈ لگایا گیا ہے۔ سورج کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پورے نظام شمسی کو لیے ہوئے ۲۰ کلومیٹر فی سیکنڈ یعنی بہترہزار کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے حرکت کر رہا ہے۔

چناں چہ اللہ تعالیٰ نے جو حج کو زندگی میں ایک بار فرض ٹھہرایا اور اس میں طواف کو لازم قرار دیا‘ اس میں کوئی مصلحت ہوگی۔ یہ دور کی کوڑی نہیں بلکہ غور کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام میں جو پانچ باتیں بنیادی ارکان کی حیثیت رکھتی ہیں‘ ان میں سے تین کے اوقات کا تعین براہ راست اس پورے نظام شمسی اور زمین کی گردش سے ہے۔

بے خودی کے عالم میں ہم نے طواف مکمل کیا۔ مقام ابراہیم علیہ السلام کے پاس آ کر دو نفل پڑھے۔ مقام ابراہیم سے اُٹھ کر آب زم زم پیا‘ تو جیسے تسکین روح کی گہرائیوں تک اتر گئی۔ ننھے اسماعیل ؑکی ایڑیاں کتنی بابرکت تھیں کہ ان کے طفیل اب تک کھربوں آدمی زم زم سے فیض یاب ہو چکے۔چشمہ ہے کہ اس کی روانی میں کوئی کمی آئی ہے نہ پانی کے ذائقے میں تبدیلی۔ روح کی شفا‘ جسم کی غذا۔

ماں کی ممتا
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے بی بی ہاجرہ کی بے تابیاں خودبخودنظروں میں گھوم جاتی ہیں۔ دونوں ٹیلوں کی درمیانی جگہ نشیب میں ہے۔ بی بی ہاجرہ یہاں آتیں تو ان کا لخت جگر ان کی آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا۔ تب وہ بے تاب ہو کر دوڑتیں‘ تاوقتیکہ دوسرے ٹیلے کی چڑھائی سے انھیں بچہ پھر نظر آنے لگتا۔ میرا خیال ہے کہ مائیں اس کرب کو زیادہ بہتر طریقے سے محسوس کر سکتی ہیں جس سے بی بی ہاجرہ اس وقت گزری ہوں گی۔ یہ ماں کی ممتا ہی تو ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے امر کر دیا۔

حج کی تمام ادائیں ایک چھوٹے سے کنبے کی کہانی کے اردگرد گھومتی ہیں۔ چھوٹا سا کنبہ‘ اللہ کے رنگ میں رنگا ہوا۔ سراپا اطاعت‘ وفاشعار‘ تسلیم و رضا کے پیکر۔ عمر کا آخری حصہ تھا جب حضرت ابراہیمؑ کے ہاں بی بی ہاجرہ کے بطن سے اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اتنی دعائوں اور تمنائوں کے ساتھ پیدا ہونے والا بچہ کتنا لاڈلا‘ کتنا پیارا اور دل کے کتنا قریب ہو گا۔ حکم ہوا اسے یہاں چھوڑ جائو‘ وادی بے نمود میں‘ جہاں دھوپ سے بچنے کے لیے کسی شجر کا سایہ تھا نہ پیاس بجھانے کے لیے پانی کا کوئی بندوبست۔ سورج آگ برساتا تھا اور تپتی ریت کسی سبز پتے کو پنپنے نہ دیتی تھی۔

پانی کا جو مشکیزہ چھوڑ چلے تھے‘ وہ کتنے دن چلتا… ایثار و وفا کے اس پیکر پر ہزار محبتیں قربان‘ جب وہ اپنی بیوی اور بچے سے منہ موڑ کر چلا ہو گا تو فطری طور پر تقاضائے بشریت سے دل میں ایک ہوک سی تو اُٹھی ہو گی‘ دھڑکنیں منتشر تو ہوئی ہوں گی شفقت پدری نے پیچ و تاب تو کھائے ہوں گے لیکن وہ جس مقام پر فائز تھے‘ اس کے وقار کا تقاضا تھا کہ لب خاموش رہیں لہجہ پرسکون ؎
میں تو اس وقت سے ڈرتا ہوں کہ وہ پوچھ نہ لے
یہ اگر ضبط کا آنسو ہے تو ٹپکا کیسے

آدابِ فرزندی
ایک عرصے بعد لوٹے تو باصبر بیوی نے دھڑکنیں فرش راہ کر دیں۔ بیٹا نہ صرف سلامت تھا بلکہ قد کاٹھ بھی نکال چکا تھا۔ ابھی اسے دیکھ دیکھ جی بھی نہ بھرا تھا‘ تبھی پرچہ سوالات سے مشکل ترین سوال اترا ’’اسے ہمارے لیے ذبح کر دو گے؟‘‘ بلا چون و چرا بیٹے کو ساتھ لے ویرانے کو چل دیے۔ اور اطاعت گزار بیٹے کو دیکھو‘ کہتا ہے ’’ابا جان! آپ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیجیے۔ ایسا نہ ہو کہ شفقت پدری سے احکام الٰہی کی تعمیل میں ہاتھ کانپ جائے۔‘‘

اللہ اللہ‘ سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
یہ الگ بات کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے نقوش پا کی پیروی لغوی اور روحانی‘ دونوں معنوں میں اگر کوئی کرتا ہے تو صرف مسلمان۔ آج مکہ اور اِس کے اردگرد جو خوش حالی‘ آسوگی‘ طمانیت‘ امن وامان اور فراوانی نظر آتی ہے‘ وہ سب کچھ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعائوں کا ثمر ہے۔ وہ جب اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے‘ تو ان کے لبوں پر یہ دعا تھی ’’اے رب! اس شہر کو امن والا شہر بنانا‘ اس کے رہنے والوں میں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھیں‘ انھیں پھل عطا کرنا اور ان میں ایک رسول بھیجنا جو انھیں تیری آیتیں پڑھ کر سنائے‘ انھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔‘‘

رب کا میلا
بیت اللہ کی دنیا عجیب ہے۔ اس کے دروازوں سے داخل تو لوگ گروہ در گروہ ہوتے ہیں۔ مجموعوں کی شکل میں‘ انبوہ کی صورت‘ لیکن صحن میں اترتے ہی ہر شخص فرد واحد رہ جاتا ہے۔ ہر ایک کی اپنی تمنائیں ہوتی ہیں‘ اپنی دعائیں‘ مرادیں’ منتیں اور چاہتیں۔ سارے مطالبے ایک ہونے کے باوجود‘ ہر زندگی مختلف ہوتی ہے جس میں محرومیاں ہوتی ہیں‘ حسرتیں‘ کردہ گناہوں کی پشیمانیاں‘ ناکردہ گناہوں کی سزائیں بھی!ہر کوئی اپنے گناہوں کا پشتارہ‘ خواہشوں کی گٹھڑی اور تمنائوں کی ’’کانفیڈنشل‘‘ فہرست ساتھ لاتا اور چپکے چپکے‘ سرگوشیوں میں اللہ میاں کے حضور پیش کرتا ہے۔

کچھ راز ایسے ہوتے ہیں کہ لب پر بھی نہیں آتے۔ دیواروں کے کان ہوتے ہیں نا! یہ راز ایسے ہوتے ہیں کہ بیت اللہ کی دیواروں کو بھی ان کا امین نہیں بنایا جا سکتا۔ براہ راست اللہ میاں کی خدمت ہی میں پیش کیے جاتے ہیں۔ بغیر زبان پر لائے۔ ’’اے اللہ! توجانتا ہے‘ تو علیم ہے‘ تو حلیم ہے۔‘‘ یوں بھی ہوتا ہے کہ ہزاروں میل کا سفر جن کی سنگت میں طے کر کے بیت اللہ پہنچتے ہیں‘ طواف کے دوران‘ ہاتھ تو ان کے تھامے ہوتے ہیں لیکن کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو اِن سے بھی نہیں کی جاتیں‘ ان پر ذاتی‘ پرسنل‘ کانفیڈنشل‘ خفیہ‘ سیکرٹ‘ بلکہ ٹاپ سیکرٹ کے لیبل لگا کر رب کعبہ کے حضور پیش کی جاتی ہیں۔ اقبال خود تو وہاں نہیں جا سکے‘ گھر بیٹھے بیٹھے درخواست بھجوا دی ؎

گر تومی خواہی حسابم ناگزیر
از نگاہ مصطفی پنہاں بگیر
(اگر تو مجھ سے حساب کتاب لینا ہی چاہے تو محمد مصطفیﷺ کے سامنے نہ لینا۔ ان سے چھپ کر لینا کہ ان سے محبت کے مدعی کے ایسے ایسے گناہ)
اور اللہ میاں کی عظمت تو دیکھو۔ گھر ہے اس کا لیکن کوئی انتظار گاہ نہیں‘ کوئی ڈرائنگ روم نہیں‘ کوئی بیڈ روم ‘ پرائیویٹ چیمبر‘ کمرا خاص‘ کچھ نہیں۔ زنان خانے مردانے کی کوئی تمیز نہیں۔ دیوان خاص بھی کوئی نہیں۔ ہاں دیوان عام ہے‘ کھلی کچہری جس میں داخلے کے لیے کسی پہریدار سے پوچھنا پڑتا ہے نہ کوئی زنجیر کھینچنی پڑتی ہے۔ کوئی منشی‘ کوئی پی اے‘ کوئی سیکرٹری‘ کوئی پی ایس سی‘ کوئی نہیں۔ اس کے باوجود جو کوئی دیوان عام میں داخل ہو‘ وی وی آئی پی بن جاتا ہے‘ اسٹیٹ گیسٹ!

جو وہ کچھ کہے‘ بڑی احتیاط اور باریک بینی کے ساتھ نوٹ کیا جاتا ہے۔ اللہ میاں ہر شخص کے ساتھ الگ الگ پیش آتے ہیں‘ ذاتی توجہ کے ساتھ۔ اور بہت سے لوگ گواہی دیں گے کہ جو دعا دل کی گہرائیوں سے کی جائے‘ پورے یقین و اعتماد کے ساتھ‘ اس کا جواب وہیں‘ اسی وقت مل جاتا ہے۔
اس کی مصلحتیں وہی جانے‘ وہ جو کچھ کرے‘ پورے چمن کے مجموعی انتظام کی بہتری سامنے رکھ کر کرتا ہے۔ جو کچھ کرتا ہے‘ وہی وقت کی بہترین تدبیر ہوتی ہے۔ ہماری نگاہ کوتاہ بیں وقتی طور پر اس کی مصلحت سمجھنے سے قاصر رہتی ہے‘ اس لیے وارننگ دی گئی:
’’زمانے کو برامت کہو‘ میں زمانہ ہوں۔‘‘ (حدیث قدسی)

اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز
جب خانہ کعبہ میں ہوتے تو اطمینان سے کسی کونے میں بیٹھ جاتے اور ان تمام افراد کو یاد کرتے جو سن شعور سے اب تک ہمارے حلقہ تعارف میں آئے تھے۔ ان کے لیے دعا کرتے۔ اس بہانے ایک تو اللہ میاں سے راز و نیاز کا موقع مل جاتا‘ دوسرے بک اکائونٹ میں کچھ نہ کچھ جمع ہوتا رہتا کہ دعا کسی حال فائدے سے خالی نہیں جٖاتی۔ اگر منظور نہ بھی ہو تو اس کے بدلے آنے والی کوئی آفت ٹال دی جاتی ہے۔

انسان صرف اپنی ذات کے لیے دعا کرے‘ تو اس کی تمنائوں کا ذخیرہ جلد ختم ہو جاتا ہے۔ آخر کیا کیا کچھ مانگے اپنے لیے؟ پس چاہیے کہ دعائوں میں دوستوں‘ رشتہ داروں بلکہ مخالفوں کو بھی (مثبت دعائوں کے ساتھ) یاد رکھے۔
دعا کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ مانگو دوسروں کے لیے‘ جھولی اپنی بھرتی رہتی ہے۔ دینے والے کی رحمت بے پایاں جو ہوئی۔ پھر اسی کا در ایسا ہے جہاں سے باربار مانگتے رہو‘ کبھی ڈانٹ نہیں پڑتی۔ پس چاہیے کہ اسی کو پکاریں‘ اسی سے مدد مانگیں‘ صرف اسی سے… اور اس کے لیے یہ شرط تو نہیں کہ خانہ کعبہ ہی جائیں تو یہ سلسلہ قائم ہو‘ دعائوں کا سلسلہ تو کہیں بھی‘ کسی بھی وقت قائم ہو سکتا ہے۔ ہم تو پھر وہاں تھے‘ جہاں

حکایت لذیذ بود‘ دراز تر گفتم
اللہ میاں سے باتیں کرنے میں زیادہ لطف آتا:
’’اے اللہ ! وہ بچپن کا ساتھی… جانے آج کل کہاں ہے۔ جہاں کہیں بھی ہے‘ اسے اپنی امان میں رکھنا۔‘‘
’’ہماری امان میں ہے۔‘‘
’’اور وہ فلاں‘ ہم نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ معافی عطا ہو۔‘‘
’’اوکے ۔‘‘
’’اسے اپنے پاس سے بدلہ عطا فرما۔‘‘
’’فرما دیا۔‘‘
’’فلاں مدیر کتنے خلوص سے محنت کر رہے ہیں۔ ان کے پرچے کوفروغ عطا فرما۔‘‘
’’او کے۔‘‘

خانہ کعبہ میں رحمت خداوندی جوش میں ہوتی ہے۔ درخواستیں فٹافٹ پاس ہوتی ہیں۔ ایک بار مسترد ہوتے بھی محسوس ہوئی۔
’’اللہ!ہمارے فلاں دوست بے اولاد ہیں۔ انھیں اولاد عطا فرما۔‘‘
خاموشی
’’اللہ! فلاں صاحب بڑے اچھے ہیں۔ انصاف پسند ہیں’ خوش اخلاق۔‘‘
’’کسے بتا رہے ہو؟‘‘
’’اوہ معاف کیجیے‘ بات یہ ہے کہ ان کے پاس آپ کا دیا سب کچھ ہے‘ ایک اولاد کی نعمت سے محروم ہیں…‘‘
’’وہ خود کیوں نہیں آئے؟‘‘
’’ہم سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔‘‘ شاید… شاید کوئی مجبوری ہو۔‘‘
’’کیا مجبوری ہے؟‘‘

ہمارے علم میں تو واقعی انھیں کوئی مجبوری نہیں تھی‘ کیا وکالت کرتے؟ جب ان کے بارے میں گفتگو شروع کی‘ اٹکائو محسوس ہوا‘ جیسے موسم کی خرابی سے تصویر دھندلا جائے‘ آواز غائب ہو جائے۔ پاکستان واپس آ کر انھیں اشاروں کنایوں میں سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ حج کے لیے چلے جائیں۔
آیات قرآنی کے مطالب

اللہ میاں کے ساتھ ’’ہاٹ لائن‘‘ پر تو کسی بھی وقت بات کی جا سکتی ہے (اجیب دعوۃ الداع اذارعان۔ البقرہ: ۱۸۶) لیکن اس کے گھر بیٹھ کر بات کرنے کا لطف ہی اور ہے۔ پھر اس کے کلام کو وہاں بیٹھ کر پڑھا جائے تو معانی اور واضح‘ مفہوم اور بہتر طریقے سے سمجھ میں آتا ہے۔ کچھ آیتیں تو ہیں ہی ایسی کہ ان کا پورا اور صحیح مفہوم ادا ہی تب ہوتا ہے جب انہیں مکے یا خانہ کعبہ کے عین بیچ بیٹھ کر پڑھا جائے جیسے
فلیعبدوا رب ھذا البیت الذی اطعمھم من جوع و آمنھم من خوف (قریش۔ ۳۔۴)
(پس چاہیے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے بھوک کی حالت میں انھیں کھلایا اور خوف کی حالت میں انھیں امن دیا۔)
والتین والزیتون وطور سینین و ھذا اللبلد الامین (التین۔ ۱۔۲)
(قسم ہے انجیر کی‘ زیتون کی‘ طور سینا کی اور اس امن والے شہر کی۔)
اِن آیات کو پڑھنے کا لطف اس وقت دوبالا ہو جاتا ہے جب آپ مکہ میں ہوں اور بیت اللہ آپ کی نگاہوں کے عین سامنے ہو۔

بیت اللہ کے اردگرد واقع مکے کی انہی گلیوں میں تیرہ سال تک قرآن نازل ہوا اور جب ہٹ دھرم کافروں نے اسے ماننے سے انکار کیا تو صاحب وحی نے انہی گلیوں‘ محلوں میں گزاری ہوئی زندگی کو دلیل کے طور پر پیش کیا تھا: لقد لبثت فیکم عمرا سنین۔ (میں نے اپنی عمر کے کتنے ہی سال تمہارے ساتھ گزارے ہیں۔) کتنی خوبصورت بات ہے اور کتنا بڑا دعویٰ! بھرپور اپنائیت کے ساتھ پیش کیا گیا کہ کل تک تو میں تمہارا ہی ساتھی تھا‘ تمہارے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا۔ چلتا پھرتا تھا۔ تمہارے دکھ‘ میرے دکھ تھے۔ تمہاری میری

خوشیاں سانجھی تھیں۔ کبھی مجھے جھوٹ بولتے‘ لاف زنی کرتے یاوہ گوئی کرتے سنا؟ کوئی ہے تم میں جو میرے کردار پر انگلی اٹھا سکے؟نہیں اور یقینا اس کا جواب نہیں میں ہے تو مان لو کہ آج جن حقیقتوں کی خبر تمھیں دے رہا ہوں ان میں بھی چنداں کوئی جھوٹ شامل نہیں۔ تمہارے ساتھ گزارے ہوئے ماہ و سال میرے دعوے کی صداقت کے گواہ ہیں۔ تمہارا خیرخواہ رہا ہوں اور اب بھی تمہارے بھلے کی بات پیش کر رہا ہوں۔

حضرت بلالؓ کے نقش قدم پہ
سیدنا بلال ؓ پر انہی گلی کوچوں میں ظلم کے پہاڑ توڑے گئے تھے۔ ایک دفعہ ہوٹل سے نماز ظہر پڑھنے خانہ کعبہ جانے لگے‘ تو سوچا آج ننگے پائوں چلیں۔ ان گلیوں کی تپش تو محسوس کریں جہاں سیدنا بلالؓ کو محض اس جرم میں سزا دی جاتی تھی کہ وہ ایک خدا کو کیوں مانتے ہیں۔ سیڑھیوں سے سڑک پر قدم رکھا تو یوں لگا جلتے توے پر پائوں رکھ دیا۔ فوراً دوسرا قدم زمین پر رکھتے ہوئے پہلا اٹھا لیا۔ یہ محض اضطراری کیفیت تھی۔ ورنہ دوسرا قدم کسی چمن کی روش پر تھوڑا ہی پڑنا تھا‘ یوں سمجھو دہکتے کوئلوں پر قدم رکھتے تیز تیز چلتے جا رہے تھے۔

سیدنا بلالؓ اور حضرت خبابؓ بن الارث یاد آتے رہے۔ ان کی یاد میں ہم نے بھی احد احد کرنے کی کوشش کی لیکن زبان سے اف اف نکلتا۔ باب عبدالعزیز سامنے ہی تھا لیکن نگاہیں نیچی کیے چلتے رہے کہ نظر اُٹھانے پر وہ دور لگتا۔ چند منٹوں کا وہ فاصلہ جانے کیسے طے کیا اور سیدنا بلالؓ کی استقامت کو خراج تحسین پیش کرتے مسجد میں داخل ہوئے۔ تکبیر ہو چکی تھی۔ ہمارے برآمدے میں داخل ہوتے ہی اللہ اکبر کہا گیا۔ قریبی صف میں جہاں جگہ ملی‘ وہیں کھڑے ہو کر نیت باندھ لی۔

اللہ اکبر کہا تو سیدنا بلالؓ کی یاد ساتھ تھی۔ واقعی اللہ بہت بڑا ہے کہ اپنے کیسے کیسے شیدائی پیدا کیے کہ وہ اتنے دکھ اُٹھانے کے باوجود بھی اس کی توحید کا اعلان کرتے رہے۔ ہم فرش پر کھڑے تھے اور تپش محسوس ہو رہی تھی۔ جی چاہتا تھا کہ پائوں بدلی کرتے رہیں لیکن نماز کے احترام میں ضبط کیے کھڑے رہے۔ اچانک کسی نے ہمیں نرمی سے کھینچ کر بائیں طرف کر لیا‘ ہم ننگے فرش سے قالین پر آ گئے۔ یوں لگا جیسے نرم نرم روئیں پائوں سے لپٹ کر اسے سہلا رہے ہوں۔ سورہ فاتحہ میں رب العلمین… الرحمن الرحیم۔ پڑھتے ہوئے اس سے پہلے شاید اتنا لطف کبھی نہ آیا تھا۔

چھوٹی چھوٹی آیتیں مکے اور مدینے کی گلیوں میں چلتے ہوئے نئے معانی سے آشنا کرتی ہیں بشرطیکہ انسان نے تھوڑی بہت عربی سیکھ رکھی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ان اساتذہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے کہ جن کی بے لوث کوششوں کے نتیجے میں ہم نے عربی سیکھی اور قدم قدم پر ہمارے کام آئی۔

وہ قارئین جو عربی نہ جانتے ہوں‘ اس نیت سے یہ زبان سیکھنے کا اہتمام کریں کہ ایک تو قرآن فہمی بڑھتی اور روزمرہ زندگی میں قدم قدم پر ربانی ہدایت ملتی رہتی ہے۔ دوسرے کل کلاں‘ زندگی کے کسی موڑ پر مکے مدینے جانا ہوا تو وہاں کا قیام‘ قرآن کی تلاوت اور عبادت کے حوالے سے پُرلطف اور دوبالا ہو جائے گا۔
طرح طرح کے لوگ

اللہ کے گھر ہر طرح کے لوگ آتے اور اپنے اپنے ظرف‘ علم اور سطح کے مطابق بامراد لوٹتے ہیں۔ ایک دفعہ حطیم میں بیٹھے تھے کہ قریب سے آواز آئی ’’اللہ اچبر۔‘‘ دیکھا کہ ادھیڑ عمر کا ایک ترک نفل کی نیت کیے نماز پڑھ رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے قدرے بلند آواز سے تلاوت شروع کر دی۔ سورہ فاتحہ کے بعد اس نے سورہ اخلاص یعنی قل ھو اللہ پڑھی اور پھر ’’اللہ اچبر‘‘ کہتے ہوئے رکوع میں چلا گیا۔ اس کے ہر اللہ اچبر پر ہمارا دھیان بٹتا لیکن وہ تھا کہ دھڑا دھڑ نفل پہ نفل پڑھے جا رہا تھا۔ چونکہ سرگوشی سے ذرا بلند آواز میں تلاوت کرتا تھا اس لیے یہ بھی پتا چلا کہ وہ ہر رکعت میں صرف سورہ اخلاص ہی پڑھ رہا تھا۔

اب معلوم نہیں کہ کوئی منت مان کرآیا تھا کہ اس نے سورہ اخلاص کے ساتھ اتنے نوافل پڑھنے ہیں۔ یا نبی رحمتؐ کا یہ فرمان اس کے پیش نظر تھا کہ سورہ اخلاص سے محبت اس کے پڑھنے والے کو جنت کا مستحق بنا دیتی ہے یا اسے بس یاد ہی ایک سورت تھی۔ دوسرے وہ اللہ اکبر کو اللہ اچبرکیوں کہہ رہا تھا۔ ہماری صحافیانہ حس نے ہمیں انٹرویو پر اُکسایا‘ لیکن وہ اردگرد سے بے نیاز اللہ سے راز و نیاز میں مصروف تھا۔

یہ واقعہ حافظ ادریس نے سنایا کہ لاہور کا ایک سر پھرا باب ملتزم سے لپٹا دعا کر رہا تھا: ’’اللہ میاں! ہے تو تیرا گھر‘ ہم کچھ کہہ تو نہیں سکتے پر تو جانتا ہے کہ لاہور لاہور ہے۔ بس واپسی کی ٹکٹ کا بندوبست کر دے۔‘‘ جانے بچارہ کب سے واپسی کی ٹکٹ کے لیے دھکے کھا رہا تھا۔

ایک اور بدو کا قصہ سناتے ہیں کہ وہ خانہ کعبہ سے لپٹتا رو رو کر پکارتا تھا: ’’یااللہ! گنا‘ یااللہ! گنا۔‘‘
حافظ ادریس کافی دیر تو حیران ہوتے رہے کہ خانہ کعبہ میں یہ شخص محض گنے مانگنے آیا ہے۔ پھر یاد آیا کہ مصری مقامی بولی میں جیم کو گاف بولتے ہیں۔ اپنے جمال عبدالناصر کو بھی گمال عبدالناصر کہتے تھے تو وہ اللہ میاں سے جنہ طلب کر رہا تھا جو اس کی زبان میں گنا ہی تھی۔

خانہ کعبہ میں جہاں اپنے آپ سے بے خبر عبادت کی دھن میں ڈوبے لوگ نظر آتے ہیں‘ ایسے بھی دکھائی پڑتے ہیں جو اپنی انا کالبادہ لپیٹے رہتے ہیں اور اس کے دربار میں بھی خود سے جدا نہیں کرتے۔ ایک دفعہ وضو خانوں میں گئے۔ ان دنوں وہاں ایسے نلکے لگے تھے جن سے پانی حاصل کرنے کے لیے دبانا پڑتا تھا۔ حج کا موقع تھا۔ بہت ہجوم تھا۔ ہم نے نلکا دبانے کے لیے ہاتھ بڑھائے تو عربی لباس میں ملبوس ایک شخص نے ہمیں دھکا دے کر پرے کیا اور خود نلکے پر جھک گیا۔ ہم ابھی سوچ ہی رہے تھے یہ کیا ہوا کہ قریب کھڑے ایک صحت مند پاکستانی نے اسے کندھے سے پکڑ کرپیچھے کھینچ لیا اور مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا ’’سر!تسی وضو کرو۔‘‘

اس نے ہمیں سر کہہ کر مخاطب کیا۔ شاید ہماری یونٹ کا کوئی فردتھا یا بس ایک پاکستانی جو اپنے ہم وطن کی مدد کے لیے عین خانہ کعبہ میں مرنے مارنے پر اتر آیا تھا۔ عرب نے سنبھلتے ہی مغلظات بکنا شروع کر دیں۔ وہ پاکستانی کوپیچھے دھکیلنے لگا تھا کہ اُس نے بھی آنکھیں نکالتے ہوئے خالص پنجابی میں جوابی کارروائی شروع کر دی۔ ’’او تیری میں…‘‘ ہم نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور اسے خاموش رہنے کی تلقین کی۔

’’سر! آپ نہیں سمجھتے انھیں‘ یہ اپنے آپ کو پھنے خان سمجھتے ہیں۔ خانہ کعبہ ان کے باپ کا ہے؟ میں نکالتا ہوں ابھی اس کے کس بل۔‘‘
میں نے پھر اسے سمجھایا ’’احرام کی حالت میں لڑائی جھگڑا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر یہ جہالت پر اترا ہوا ہے تو ہمیں اپنے اعمال ضائع نہیں کرنے چاہئیں۔‘‘
’’سر! لیکن وضو پہلے آپ کریں۔‘‘ غیرت کے ہاتھوں مجبور پاکستانی نے پھر اس عرب کو پیچھے کھینچا جو ہماری گفتگو کے دوران نلکے پر حاوی ہو چکا تھا۔ اسے سمجھایا کہ

اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ہم نے عرب کو وضو کرنے کا اشارہ کیا اور مدد کے لیے نلکا دبانے کو ہاتھ آگے بڑھائے۔ اس نے ہمارے ہاتھ جھٹک دیے۔
’’میں تمہاری مدد کرنا چاہتا تھا۔‘‘ ہم نے وضاحت کی۔
’’مجھے نہیں ضرورت تمہاری مدد کی۔‘‘ اس نے بھی وضاحت فرمائی اور وضو کرنے لگا۔ پاکستانی کھڑا پیچ و تاب کھاتا رہا لیکن ہمارے اشارے پر خاموش کھڑا رہا۔

میدان عرفات میں
عرفات کا میدان خوب بھرا ہوا تھا جس طرف نگاہ اٹھتی سفید احرام میں ملبوس انسان دکھائی دیتے۔ بوڑھے‘ بچے‘ جوان‘ نوجوان لڑکیاں‘ خواتین‘ ہر ملک کے لوگ‘ ہر قوم کے افراد۔ مصری‘ ترکی اور ایرانی بڑے بڑے قافلوں کی صورت میں آتے اور دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ منظم ہوتے ہیں۔ مصریوں کا ایک کیمپ دیکھا۔ کافی بڑا تھا۔ ڈھائی تین ہزار کا مجمع تو ہو گا۔ اسٹیج پر ایک نوجوان قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اُٹھائے بڑے خشوع و خضوع سے دعائیں مانگ رہا تھا۔ پورا مجمع اس کے ساتھ ساتھ دعائیں دہرا رہا تھا۔ گونج تھی‘ جیسے عرش ہل رہا ہو:

’’ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا و ترحمنا لنکونن من الخسرین۔‘‘
ہم ان کے دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے اور ہاتھ اُٹھا لیے‘ ’’اللہ! جو کچھ یہ مانگ رہے ہیں‘ مجھے بھی ان میں شریک رکھ۔ جوکچھ انھیں عطا ہونا ہے‘ مجھے بھی عطا ہو۔ مجھے تو مانگنا بھی نہیں آتا۔ دعائوں کے آداب تک سے واقف نہیں۔ تو رحیم ہے‘ تو عظیم ہے۔ ان کی دعائوں میں‘ میری شمولیت ہی کو قبولیت عطا ہو۔‘‘
افریقا کے لوگ جتنے سیاہ ہیں‘ اتنے ہی بھڑکیلے‘ شوخ‘ تیز رنگ کپڑے پہنتے ہیں۔ یوں کہہ لیں کہ پورے ماحول کو رنگ دیتے ہیں۔ رنگوں کے یہ دھارے آج ہر طرف بہ رہے تھے‘ منیٰ سے مکہ تک! طواف و داع بھی آج ہی کرنا تھا۔ رمی کر کے لوگ مکہ کی طرف جا رہے تھے۔

خانہ کعبہ کے چکر
بیت اللہ کا طواف کرنے اپنے ساتھی‘ اختر کے ساتھ ہم ایک ویگن میں مکہ پہنچے تو دیکھا منیٰ کی رونق خانہ کعبہ میں سمٹ آئی تھی۔ پہلے طواف کے وقت بیت اللہ کا غالب منظر بلیک اینڈ وہائٹ تھا۔ بیچ میں سیاہ غلاف میں ملبوس خانہ کعبہ اور اردگرد سپیدیوں کے دھارے اور نور کی گردش! آج سارا منظر ٹیکنی کلر ہو گیا تھا۔ جیسے شادی کے موقع پر دلہن کے اردگرد زرق برق کپڑوں میں ملبوس سہیلیوں کا جھرمٹ۔ نچلے والے فرش پر تو قدم رکھنے کی جگہ نہ تھی۔ پہلی منزل پر پہنچے۔ طواف کا پہلا چکر ہی اتنا طویل لگا جیسے میلوں کی مسافت طے کی ہو۔ ہم نے ہنستے ہوئے اختر کو خبردار کیا کہ چکروں کا حساب رکھنا‘ اگر بھول گئے تو حکم یہ ہے کہ پھر سے شروع کرو۔ اختر چلتے چلتے کھڑا ہو گیا ’’کیا؟‘‘

’’جی ہاں‘ حکم یہی ہے کہ بھول جائو تو نئے سرے سے شروع کرو۔‘‘
بندہ خانہ کعبہ کے بالکل قریب طواف کر رہا ہو تو بھول بھی جائے تو نئے سرے سے شروع کر سکتا ہے۔ لیکن ایک تو یوم عید جو حاجیوں پر ویسے ہی بڑا بھاری گزرتا ہے… منہ اندھیرے مزدلفہ سے چلنا‘ منیٰ پہنچ کر رمی کرنا‘ قربانی دینا‘ طواف و داع کے لیے مکہ آنا اور پھر پہلی منزل پر طواف! اچھا بھلا نوجوان صحت مند‘ توانا آدمی تھک کر چور ہو جاتا ہے۔ اللہ میاں ’’اسپیشل‘‘ توانائی عطا فرماتے ہیں اس دن‘ قوت و ہمت کا خاص کوٹہ!
خالی ہاتھ کوئی نہیں لوٹتا

دس ذوالحج کے بعد حاجیوں کو کم از کم دو روز منیٰ میں رکنا ہوتا ہے۔ کوئی چاہے تو تیسرے روز بھی رک سکتا ہے۔ حکم یہ ہے کہ ان دنوں میں اپنے رب کو خوب یاد کرو۔ اسلام سے پہلے یہاں مختلف قبیلوں کی منڈلیاں جمتی تھیں جس میں اپنے اپنے قبیلے کے آبا و اجداد کے کارنامے خوب بڑھا چڑھا کر پیش ہوتے۔ ان کی شان میں قصیدے کہے جاتے‘ زور دار تقریریں ہوتیں اور سارا زورِ بیان اسی میں صرف ہو جاتا کہ انہی کا قبیلہ سب سے برتر‘ شجیع‘ افضل ترین تھا۔

اب رب کے ذکر کی محفلیں جمتی ہیں۔ اس کی تسبیح بیان ہوتی ہے۔ اسی کی بڑائی اور عظمت کے گن گائے جاتے ہیں یا اس کے حبیب ﷺ پر درود و صلوٰۃ کی محفلیں برپا ہوتی ہیں۔ نفل گزارے جاتے ہیں‘ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر‘ پچھلے پہر۔ جو لوگ کچھ نہ کر سکیں‘ کچھ نہ پڑھ سکیں‘ بس نیت رکھیں‘ خلوص کے ساتھ‘ خالی ہاتھ وہ بھی نہیں لوٹائے جاتے۔
لیفٹیننٹ کرنل منصور رشید نے یہ واقعہ سنایا۔ ان کے کیمپ میں لوگ حسب توفیق عبادت میں مصروف تھے۔ کوئی نماز پڑھ رہا تھا‘ کوئی قرآن اور کوئی تسبیح پھیر رہا تھا۔ سامنے والے خیمے میں ایک بڑھیا بالکل بے علم دکھائی پڑتی تھی۔ وہ آنکھیںپھاڑ پھاڑ کر کبھی ایک سمت تکتی‘ کبھی دوسری سمت‘ آخر گھبرا کر اس نے اپنے میاں کو جھنجھوڑا جو بے سدھ ہو کر سویا پڑا تھا۔
’’ارے اُٹھ‘ دیکھ وقت نکلا جا رہا ہے۔‘‘

بڑے میاں ہڑبڑا کر اٹھے۔ پوچھا ’’کیا بات ہے؟‘‘
بڑھیا پھر بولی ’’دیکھ پوری دنیا عبادت میں مصروف ہے۔ ہر کوئی کچھ نہ کچھ پڑھ رہا ہے۔ ہمیں تو کچھ پڑھنا بھی نہیں آتا۔ ہمارا کیا بنے گا؟۔‘‘
بڑھیا کی آواز میں اتنا درد‘ سوز‘ اتنی فکر تھی کہ سننے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ بوڑھے نے اطمینان سے جواب دیا:
’’فکر کیوں کرے ہے‘ جس نے بلایا وہی ہمارا بھی مالک ہے۔ خالی ہاتھ تھوڑا ہی بھیج دے گا۔‘‘
اس کا ایمان‘یقین اور اطمینان سننے والوں کو سرشار کر گیا۔
مکہ کی گلیوں میں

ہم سے کیمپ میں بیٹھا نہ جاتا۔ اللہ میاں کی وہ بستی جو اس نے دو تین دنوں کے لیے بسائی تھی‘ ہمیں پکارتی اور تھکن کے باوجود ہم اُٹھ کھڑے ہو جاتے۔ رمی کے بعد تو یہ حالت ہوتی جیسے ٹانگوں میں جان ہی نہیں لیکن ہم شوق میں چل نکلتے۔ شروع شروع میں پائوں دکھتے‘ ٹانگیں درد کرتیں پھر ایک مرحلہ ایسا آ جاتا کہ درد‘ تھکن‘ تکلیف سب رفع ہو جاتی۔ ہم روبوٹ کی طرح چلتے رہتے‘ چلتے رہتے ٹانگیں سن ہو جاتیں‘ احتجاج کے حق سے دستبردار۔

کسی نے ہمارے ہاتھ میں منیٰ کا نقشہ تھما دیا جس میں تمام سڑکیں‘ پل اور کیمپ دیے ہوئے تھے۔ یہ نقشہ ہمیں جلد ہی ازبر ہو گیا۔ پھر منیٰ کی سڑکیں ہمارے لیے یوں ہو گئیں جیسے اپنے ہاتھ کی لکیریں۔ تب ہم مختلف شاہراہوں پر چلتے ہوئے اللہ کی عبادت میں مصروف لوگوں کا نظارہ کرتے۔ کئی لوگ ملتے جو راستہ بھول کر کہیں کے کہیں نکلے ہوتے۔ ہم انھیں ان کے کیمپ پہنچا آتے۔ ایک دفعہ ایک ہم وطن نوجوان ملا۔ وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا:
’’یار میں صبح سے چل چل کرسو ریال کا تو پانی ہی پی گیا ہوں لیکن کیمپ ہے کہ ملتا ہی نہیں۔‘‘

ایک دفعہ بنگلہ دیش کے دو بوڑھے ملے۔ انھوں نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں بتایا کہ صبح رمی کے لیے گئے تھے۔ جب سے اپنا کیمپ دھونڈتے پھررہے ہیں لیکن ملتا نہیں۔ (جب وہ مجھے ملے غالباً عصر کا وقت تھا) میں نے ان سے کیمپ کا نمبر پوچھا تو ان کی اردو ختم ہو گئی۔ ایک بوڑھے نے مایوسی میں اوشٹودش کہا۔ اور ہم سمجھ گئے۔

ہم نے انگلیوں پر گن کر ان سے تصدیق چاہی کہ ان کے کیمپ کا نمبر اٹھارہ ہی ہے نا؟ ان کی آنکھوں میں چمک آ گئی‘ امید کی ایک کرن جاگ اُٹھی۔ وہ اپنے کیمپ سے زیادہ دور نہیں تھے۔ ہم نے انھیں پتا سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ التجا کرنے لگے کہ ہم انھیں چھوڑ آئیں۔ ہم تو تھے ہی اسی مشن پر! انھیں ساتھ لیا اور تھوڑی دیر میں مطلوبہ کیمپ کے سامنے لا کھڑا کیا۔

ایک بوڑھے نے دائیں بائیں دیکھا اور بولا ’’اس سڑک پر سے تو ہم کئی دفعہ گزرے ہیں۔ یہ تو ناہی ہے اوشٹودش۔‘‘ ہم نے دروازے کی پیشانی پر لگا ہوا بینر پڑھا۔ اس پر معلم کا نام اور کیمپ نمبر اٹھارہ ہی لکھا تھا۔ ہم نے بینر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہی ہے اوشٹودش۔ دوسرا بوڑھا بڑا ملنسار اور ہنس مکھ تھا۔ وہ راستے میں بھی ہم سے اٹکھیلیاں کرتا آیا تھا۔

اس نے ہم سے کہا ’’پوری دوپہر سورج اس بڈھے کے سر پر چمکتا رہاہے۔ لگتا ہے اس کا دماغ چل چکا۔‘‘ اس نے ہاتھ سے دماغ چلنے کا اشارہ بھی کیا۔ ہم نے اجازت چاہی اور پھر بھیڑ میں گم ہو گئے۔

رہی یہ بات کہ ہمیں اوشٹودش کا مطلب کیسے پتا چلا تو بات یہ ہے کہ ہمیں بنگالی زبان میں صرف ایک فقرہ اور گنتی کا ایک لفظ آتا ہے۔ فقرہ ہے‘ آمی تمار جنو بوت ای چنتی تو (ہم تمہارے بغیر بہت اُداس رہے) اور گنتی میں صرف ایک لفظ ’’اوشٹودش۔‘‘ مشرقی پاکستان کی جدائی سے پہلے کی بات ہے۔لاہور میں طلبہ کی ایک تنظیم کا سالانہ اجلاس ہوا۔ اس میں بار بار اردو کے ساتھ ساتھ بنگالی میں ’’اوشٹودش پر شکھ شومے لون‘‘ کا اعلان ہوتا رہا۔ برسوں پہلے سیکھا ہوا لفظ شاید آج ہی کے لیے یاد رہ گیا تھا۔

خواندگی نمبر1
سفرنامہ حج
لبیک اللھم لبیک‘ لبیک لاشریک لک لبیک
اے اللہ!
میں حاضر ہوں
رب کائنات کی عظیم بارگاہ میں اطاعت گزاری‘ عاجزی اور خدمت کے انمول جذبات سے آراستہ
اشفاق حسین