function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

۲۳سال قبل جب کراچی میں آپریشن کلین اپ ہوا

الطاف حسن قریشی | جرم و سزا

سندھ میں آپریشن کلین اپ کو شروع ہوئے ایک ماہ گزر چکا اور اس قلیل سی مدت میں ہمارے سیاسی کلچر کے عجیب و غریب خدوخال، ہماری پاور اسٹریٹ کے عجائبات اور ابلاغ کے ذہنوں کو تسخیر کر لینے کی ہو شربا تصویریں سامنے آئی ہیں جو اہل نظر کو دعوت غوروفکر دیتی ہیں۔ بحرانوں میں قوم کا اصل مزاج اور اس کی توانائیاں ابھر کر سامنے آ جاتی ہیں اور سندھ میں فوجی آپریشن سے ہماری سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اچھے پہلو ابھرے ہیں اور برے پہلو بھی اجاگر ہوئے ہیں۔ کھلی آنکھ اور کھلے ذہن سے دونوں ہی کا مشاہدہ اور حقیقت پسندانہ تجزیہ ضروری ہے۔ ایک اچھی قومی قیادت کا اصل کام ہی یہ ہے کہ وہ قوم کے اندر پائی جانے والی کمزوریوں کی اصلاح کرتی اور خوبیوں کو اجتماعی مقاصد کے لیے بروئے کار لاتی ہے جس کے باعث اخلاقی کردار کی ایک ناقابل تسخیر طاقت وجود میں آتی ہے اور وہی حیات انسانی کا اصل جوہر ہے۔

٭٭٭

فوجی آپریشن میں الطاف حسین اور ایم کیو ایم تنظیم کا جو انتہائی گھنائونا چہرہ بے نقاب ہوا، وہ اپنے اندر بڑی ہی درد ناک داستان چھپائے ہوئے ہے۔ ایسی بھیانک داستان جو اقتدار کے ایوانوں میں تیار ہوئی، سیاسی مصلحتوں کے پردوں میں اژدہابنی اور سحر خطابت کے ذریعے اور اخبارات کے صفحات پر مرتسم ہو کر ذہنوں اور دلوں کو ڈستی رہی۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ الطاف حسین جن کی ۸۴ء تک کوئی نمایاں حیثیت نہیںتھی، وہ کیسے پاکستان کی سیاست میں یک لخت ابھرے اور چند ہی برسوں میں ایسے مقام پر پہنچ گئے کہ پاکستان کے وزرائے اعظم اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ ان کے پائوں میں بیٹھنے کو فخر محسوس کرتے۔ امریکا، برطانیہ اور بھارت کے سفیر ان کے حجرے میں کھینچے آتے۔ وہ کراچی اور حیدرآباد کے بے تاج بادشاہ بن گئے اور ان کے ایک اشارے پر لاکھوں مرد و زن سڑکوں پر دیوانہ وار نکل آتے۔ آخر یہ سب کچھ کیا تھا؟ کوئی ڈرائونا خواب تھا؟ کوئی بھیانک حقیقت تھی یا کوئی خوفناک سازش؟ ایم کیو ایم کے اندر غالباً یہ تینوں ہی کیفیتیں موجود تھیں۔

٭٭٭

سندھ کے شہری علاقوں سے بالعموم درمیانے طبقے کے افرادمنتخب ہو کر آتے رہے ہیں۔ ۷۰ء اور ۸۵ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان اور اسی نوع کی دوسری تنظیموں نے عوام کا مینڈیٹ حاصل کیا۔ کراچی اور حیدرآباد نے پیپلز پارٹی کو ذہنی اور نظریاتی طور پر قبول نہیں کیا تھا۔ بدقسمتی سے ۷۰ء کے بعد کا زمانہ زیادہ تر نظریاتی اور سیاسی کشمکش میں گزرا اور کراچی اورحیدرآباد کے نمائندے عوام کے اجتماعی مسائل پر توجہ ہی نہ دے سکے۔ پانی، ٹرانسپورٹ اور بیروزگاری کے معاملات الجھتے رہے۔ پھر ۷۷ء میں بھٹو صاحب کے سیاسی جبر کے خلاف ایک عوامی تحریک اٹھی جو مارشل لا پر منتج ہوئی۔ عوامی نمائندگی کا سلسلہ ہی ختم ہو گیا لیکن ۷۹ء میں بلدیاتی انتخابات کے ذریعے جو نمائندہ ادارے قائم ہوئے، انھوں نے عوامی فلاح و بہبود کے بڑے بڑے کارنامے انجام دیے اور عوامی مسائل حل ہونے شروع ہوئے مگر قومی سطح پر قیادت کا خلا بڑھتا چلا گیا۔

۸۳ء کا سال اس اعتبار سے نہایت اہم ثابت ہوا کہ اس میں دوسری بار بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے اور اسی میں ایم آرڈی تحریک سے حکومت کا ٹکرائو ہوا۔ کراچی میونسپل کارپوریشن میں دوبارہ جماعت اسلامی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی، تاہم حیدرآباد میں جناب مولانا وصی مظہر ندوی کی قیادت میں نیا عنصر سامنے آیا۔ مختلف اسباب کی بنا پر جنرل ضیا الحق اور جماعت اسلامی کے بعض اہم عناصر کے درمیان سیاسی مفاہمت میں رخنے پڑنے شروع ہو گئے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب اگست کے وسط میں ایم آر ڈی نے سول نافرمانی کا اعلان کیا۔ کئی مقامات پر فوج کے ساتھ خونریز تصادم ہوا اور سندھی قوم پرست، حکومت کا تختہ الٹنے میں ناکام رہے۔ تحریک دب تو گئی مگراس نے جنرل ضیا الحق کا ذہنی سانچہ بری طرح ہلا ڈالا۔

انھوں نے پہلی بار ان اسباب کا سراغ لگانے کی ایک نہایت سنجیدہ کوشش کی جو سندھی عوام کو بے چین رکھے ہوئے تھے۔ انھیں احساس ہوا کہ اہم وزارتوں، محکموں اور بڑی بڑی کارپوریشنوں میں اندرون سندھ کی نمائندگی بڑی کم ہے، چناںچہ انھوں نے سی ایس ایس میں سندھیوں کو غیر معمولی مراعات دیں اور عام ملازمتوں میں بھی ان کا خیال رکھا۔ دیہی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو بھی خصوصی ترجیح دی گئی۔ ان ترجیحات کا سندھیوں پر کچھ زیادہ اثر نہ ہوا کہ ان کے زخم ابھی ہرے تھے مگر کراچی اور حیدرآباد میں رہنے والی کمیونٹی کا احساس محرومی کچھ اور فزوں ہو گیا۔

٭٭٭

کراچی میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان آپس میں لڑتی رہیں اور ان کی عوامی مسائل کی طرف سے غفلت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انھیں اس امر کا اندازہ لگانے کی فرصت یا ضرورت ہی نہیں تھی کہ اردو بولنے والے مہاجرین کسی ذہنی کیفیت سے دوچار ہیں اور ان کی بے چارگی کیا رنگ لانے والی ہے۔ ۸۴ء کے آغاز میں کراچی میں ایک بہت بڑی تقریب ہوئی جس میں اندرون سندھ سے ہزاروں افراد نے حصہ لیا۔ اس کے مہمان خصوصی جنرل ضیاالحق تھے۔ انھوں نے خطبہ استقبالیہ کے جواب میں اس کوٹہ سسٹم میں پانچ سال کی توسیع کر دی جو ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے دیہی آبادی کو مین اسٹریم میں لانے کے لیے خصوصی طور پر دس برس کے لیے نافذ کیا تھا۔ یہ اعلان، جو نیک نیتی سے کیا گیا تھا، مہاجرین کی امیدوں پر بجلی بن کر گرا۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ کوٹہ سسٹم ختم ہو جانے سے ملازمتوں اور معاشی سہولتوں کا دائرہ وسیع ہو گا، مگر ان کی امیدیں حسرتوں میں بدل گئیں۔ جماعت اسلامی کی شہری قیادت نے اس انتہائی سنگین مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے باسیوں کو احساس ہوا کہ ان کے جذبات اور تکالیف کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں۔

پھر اسی زمانے میں سندھ کے گورنر تبدیل کر دیے گئے۔ جنرل عباسی پڑھے لکھے فوجی افسر تھے اور انھیں منجھے ہوئے سرکاری افسروں کی خدمات حاصل تھیں۔ ان کی جگہ جنرل جہانداد خان تشریف لائے جو ایک مختلف ذہنی سانچے کے مالک تھے۔ ان کا دل اور ان کا ذہن اس قدر صاف تھا کہ سیاسی تصورات کی بھول بھلیوں کا احاطہ نہیں کر سکتا تھا۔ ان کے سامنے تین بڑے مسئلے تھے:

۱۔ ایم آر ڈی تحریک میں پیپلزپارٹی نے اپنی قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے،اس قوت کو حکومت کے لیے چیلنج بننے سے کیسے روکا جائے۔
۲۔ شہروں میں جماعت اسلامی کے اثر و نفوذ پر کیسے قابو پایا جائے۔
۳۔ اعلان شدہ انتخابات کا انعقاد پر امن فضا میں کیسے کیا جائے۔
۸۴ء کا پورا سال ایک نئی حکمت عملی وضع کرنے میںگزرا۔ لیفٹیننٹ جنرل جہانداد خان کے سیاسی مشیر جناب سید غوث علی شاہ تھے۔ ان کے مشورے سے حکمت عملی یہ طے پائی کہ اندرون سندھ میں پیپلزپارٹی کے اثرات پر قابو پانے کے لیے جی ایم سید سے بات چیت کر کے ان کے ساتھ سیاسی رابطے قائم کیے جائیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت جنرل ضیاالحق کی ملاقاتیں سید صاحب سے کرائی گئیں۔ جناب غوث علی شاہ کے، سید ہونے کے ناتے جی ایم سید کے ساتھ خصوصی روابط پہلے ہی سے قائم تھے۔ شہری آبادیوں میں جماعت اسلامی کا مقابلہ کرنے کے لیے مہاجر قومیت کو درپردہ ہوا دی گئی اور ایم کیو ایم جو ۸۴ء میں قائم ہوئی، اس میں غوث علی شاہ نے جی ایم سید کے ذریعے کلیدی کردار ادا کیا۔

جماعت اسلامی کی وہ قیادت جو کراچی میں آبادتھی، ان تمام اقدامات سے بے خبر رہی جو ان کی جماعت کو تہس نہس کرنے کے لیے ایک مخصوص گروہ پیدا کر رہا تھا۔ جنرل ضیا الحق نے جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت سے تعاون کی بار بار اپیل کی مگر کراچی کی قیادت بغاوت پر تلی ہوئی تھی۔ اس نے ۸۵ء کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیا اور جنرل ضیا الحق کے خلاف زہریلی تقریریں ہوتی رہیں۔ نتیجہ ظاہر تھا۔ جماعت اسلامی کے چاروں اہم قائدین انتخابات ہارگئے اور ایک دو حسن اتفاق سے جیت گئے۔ یوں ایم کیو ایم کی سب سے بڑی حریف سیاسی، جماعت خود ہی اوندھے منہ گر پڑی۔

٭٭٭

۸۵ء میں سید غوث علی شاہ وزیراعلیٰ بن گئے اور ان کے لیے ایم کیو ایم کو وسائل فراہم کرنا بڑا ہی آسان ہو گیا۔ وہ جماعت اسلامی کی دشمنی میں زہریلے ناگ کو بھی دودھ پلانے کے لیے تیار تھے۔ وہ خود دودھ پلاتے رہے اور ممکن ہے دوسرے ذرائع بھی استعمال ہوئے ہیں۔ ایک سال تک الطاف حسین کو تنظیمی کام کرنے کا کھلا موقع مل گیا۔ ان کی ذات میں نہایت اہم اور حساس عناصر دلچسپی لینے لگے۔ سید غوث علی شاہ جماعت اسلامی کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دینا چاہتے تھے۔ جناب جی ایم سید کا خیال تھا کہ شہروں میں مہاجروں کو منظم کیے بغیر حکومت کے خلاف کامیاب بغاوت نہیں ہو سکتی۔ اسی لیے انھوں نے ایم کیو ایم کی تشکیل میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ بھارت کی دلچسپی یہ تھی کہ کراچی میں عصبیت کو ہوا دے کر پاکستان کو نقصان پہنچانا بہت سہل ہو جائے گا۔ امریکا،الطاف حسین کو اس نگاہ سے دیکھ رہا تھا کہ ہانگ کانگ جو چند برسوں میں چین کے حوالے کر دیا جائے گا، کراچی کو اس کا متبادل بنا دیا جائے۔

الطاف حسین کے سحر خطابت میں ہر عنصر کو اپنی کامیابی نظر آتی تھی۔ ایک ایسا شخص جو مظلومیت کی تصویر بن کر ذہنوں کو مفلوج کر دے، عقل پر پردے ڈال سکے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت منجمد کر ڈالے، جذبات میں آگ لگا سکے، انسانوں کی تذلیل کا شکنجہ تیار کر سکے، اور اسے ریاست کے بااثر اداروں اور ملکی اور غیر ملکی ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہو، تووہ معاشرے کی ہر قدر کو چیرپھاڑ سکتا ہے… اور اس نے ایسا ہی کیا۔

٭٭٭
عصبیتوں اور مفادات کا اندھا پن بڑی بڑی شخصیتوں کو بکری بنا دیتا ہے۔ ایک زمانے میں ہاشم رضا جیسے زیرک منتظم اور دانش ور، جناب رئیس امروہوی جیسے قلمکار، جسٹس قدیر الدین جیسے بالغ نظر قانون دان الطاف حسین کے سحر میں گرفتار تھے۔ وہ مہاجرین کی مظلومیت کے مرثیے بڑی رقت آمیز آواز میں پڑھتے۔ انھوں نے ایک طرف اپنی تقریروں کے ذریعے مہاجر آبادی کو یہ تاثر دیا کہ ان کا مسیحا آ گیا ہے اوردوسری طرف ان طالب علموں کو اپنے گرد جمع کرنا شروع کیا جو اسلامی جمعیت طلبہ کے نظم کے ہاتھوں زخم کھا چکے تھے کہ ان کے لیے وہاں کوئی بلند مقام حاصل کرنا دشوار ہو گیا تھا۔

نوجوان طلبہ کے بعد سب سے زیادہ توجہ خواتین پر دی گئی۔ان کے جذبات میں غضب کا ارتعاش پیدا کیا گیا۔ عورتوں کو مغلوب اور مسحور کیے بغیر مہاجروں کے ہر گھر اور ہر خاندان میں ایم کیو ایم تحریک نئی قوت کے ساتھ داخل نہیںہو سکتی تھی۔ ۸۶ء کا سال مہاجروں کو ذہن نشین کرانے میں گزرا کہ پاکستان اور قائداعظمؒ نے انھیں کوتباہی اور تنگدستی کے سوا کچھ نہیں دیا اور ہم اپنے حقوق حاصل کرکے رہیں گے۔ پنجابیوں اور پٹھانوں کی چیرہ دستیوں سے مہاجر بے حاصل ہیں، ان کے تعلیم یافتہ نوجوان بے کار مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ان کی عورتیں، جو اعلیٰ حسب نسب کی ہیں، کسمپرسی کی حالت میں ہیں اور ہمیں صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ جذبات میں آگ لگا دینے والی اس تھیم پر عورتیں جوق در جوق بڑے بڑے جلسوں میں آنے لگیں۔ لسانی عصبیت اور تفاخر کا زہر ذہنوں میں سرایت کرتا جا رہا تھا۔

۸۵ء کے عام انتخابات میں کراچی سے جو نمائندے قومی اسمبلی میں گئے تھے، انھیں معاشرتی اور تہذیبی ناہمواریوں کا احساس نہ ہونے کے برابر تھا،البتہ کراچی میونسپل کارپوریشن میں جماعت اسلامی کے نمائندے، صوبائی حکومت کی مزاحمت کے باوجود، عوام کی تکالیف دور کرنے میںلگے رہتے تھے۔ یوں وہاں ایک قومی سیاسی جماعت کا تشخص کسی حد تک قائم تھا۔ اور یہ صورت حال مہاجر قومیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہی تھی، چناںچہ سید غوث علی شاہ جو اس وقت وزیر اعلیٰ تھے، وہ کراچی میونسپل کارپوریشن میں ایک منصوبے کے تحت جماعت اسلامی کی قیادت کو مشتعل کرنے لگے۔

جماعت اسلامی کی قیادت اس جال میں نہایت سادگی سے پھنس گئی جو وزیراعلیٰ سندھ نے بچھایا تھا۔ میئر کراچی نے حکومت سندھ کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔ عبدالستار افغانی بڑے ہی فعال اور دانا لیڈر ہیں، مگر جماعت اسلامی کراچی کی قیادت نے انھیں ایسے راستے پر ڈال دیا جو بڑی ہی نادانی اور تباہی کا راستہ تھا۔ دوستوں نے بڑا سمجھایا کہ قومی مفادات کو ایسی زک پہنچے گی جس کی تلافی شاید ممکن ہی نہ ہو۔ وہیکل ٹیکس کے نہایت معمولی نوعیت کے ایشو پر جماعت اسلامی نے اپنا عمر بھر کا سرمایہ دائو پر لگا دیا۔ صوبائی حکومت سے تصادم کے نتیجے میں وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میونسپل کارپوریشن کے منتخب ادارے کو توڑنے کا اعلان کر دیا اور بلدیہ عظمیٰ کے سارے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔اس طرح جماعت اسلامی نے اپنا سب سے مضبوط قلعہ خود ہی دشمن کے حوالے کر دیا۔

٭٭٭

اب ایم کیو ایم کے لیے میدان صاف تھا۔ بلدیہ عظمیٰ کے اختیارات تقریباً ڈیڑھ سال تک صوبائی حکومت یعنی جناب غوث علی شاہ نے استعمال کیے۔ اس مدت میں ایم کیو ایم نے اپنا حلقہ دام خوب مضبوط کر لیا۔ کراچی میں پیپلزپارٹی کا وجود ہی نہیں تھا،مسلم لیگ فقط کاغذوں میں تھی،مولانا نورانی سیاست سے دست کش تھے اور جماعت اسلامی حکومت سے ٹکرا جانے کے بعد عوامی مسائل حل کرنے کے قابل نہ رہی تھی۔ ۸۵ء کے انتخابات میں بڑے بڑے لیڈروںکی ناکامی نے ایک طرف قیادت کو مضمحل کر دیا تھا، دوسری طرف ان کے مزاج میں برہمی اور جلال زیادہ آ گیا۔ اور جب کسی جماعت کی قیادت اعتدال کا دامن چھوڑ دے اور اس کے مزاج پر ہیجان اور غصیلا پن غالب آ جائے، تو ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی سرزد ہوتی چلی جاتی ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی علیہ الرحمتہ تو اس وقت بھی طیش میں نہیں آئے تھے جب ان کی آنکھوں کے سامنے ہزاروں کارکنوں کے اجتماع میں جماعت کا ایک مخلص کارکن حکومت کے غنڈوں نے شہید کر دیا تھا۔ اور ان کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد یہ عالم ہوا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر قیادتیں اشتعال میں آ کر بڑے بڑے فیصلے کرنے لگیں۔

۸۶ء میں مہاجر قومیت کی عصبیت کو ایک حادثے نے ایندھن فراہم کیا۔ ایک طالبہ، بشریٰ زیدی منی بس تلے کچلی گئی۔ اس پر مہاجروں اور پٹھانوں کے مابین خونریز جھڑپیں ہوئیں جو پورے شہر میں پھیل گئیں۔ اور چند ماہ بعد پہلے سہراب گوٹھ اور پھر اورنگی ٹائون کے خون آشام سانحے پیش آئے۔ سہراب گوٹھ میں آپریشن کلین اپ کی انتہائی خفیہ منصوبہ بندی وزیراعلیٰ سید غوث علی شاہ نے فرمائی تھی۔ سہراب گوٹھ میںجو کچھ ہوا، اور اس کے بعد اورنگی ٹائون میں جو قتال ہوا، اس نے مہاجر قومیت کے عفریت کو اتنا خون پلا دیا کہ اب اسے تسخیر کر لینا کسی کے بس میں نہ رہا۔ اب کراچی اور حیدرآباد کا ہر گھر الطاف حسین کا مورچہ بن گیا۔

جب ۸۷ء کے آخر میں پورا ملک بلدیاتی انتخابات کے عمل سے گزرا، تو کراچی اور حیدرآباد کے منتخب اداروں میں ایم کیو ایم کے جھنڈے گڑ چکے تھے۔ الطاف حسین کو پہلے ہی انتخابات میں غیر معمولی کامیابی ہوئی۔ جماعت اسلامی اور مسلم لیگ اس مرحلے میں بھی اگر مشترکہ حکمت عملی وضع کر لیتیں، تو مضبوط اپوزیشن بلدیہ عظمیٰ اور بلدیہ حیدرآباد میں قائم ہو سکتی تھی۔ مگر چھوٹے چھوٹے معاملات بڑے بڑے فیصلوں میں حائل رہے۔ ۸۸ء کے عام انتخابات میں الطاف حسین اپنے مضبوط اثرات قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی تک لے جانے میں سب پر سبقت لے گئے۔ پورے کراچی اور حیدرآباد کی نمائندگی پر ایم کیو ایم قابض ہو گئی۔ اس عظیم الشان کامیابی کا راستہ جماعت اسلامی نے اپنے غلط فیصلے سے ہموار کیا۔ وہ اگر کراچی میونسپل کارپوریشن میں احتیاط سے کام لیتی اور ۸۷ء تک اختیارات اس کے ہاتھ میں رہتے تو ایم کیو ایم کے لیے ۸۸ء کے بلدیاتی انتخابات میں سب کچھ بہا کر لے جانا ہرگز ممکن نہ تھا۔ ۸۸ء کے انتخابات نے ایم کیو ایم کو قومی سیاسی زندگی میں اس طرح داخل کیا کہ اس کے دوٹوں سے بے نظیر کو وزارت عظمیٰ کا منصب مل گیا۔

٭٭٭
الطاف حسین کے سیاسی قدروقامت میں اضافے کے ساتھ ساتھ فسطائیت اور بہیمیت میں تیزی سے اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس کی تنظیم ایک مافیا تنظیم تھی جس میں ہر بات خفیہ رکھی جاتی۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا، کون کیا ہے اور کیا کرتا ہے؟ جرمن نازیوں کی خفیہ تنظیم سے ایم کیو ایم کی مشابہت بے حد زیادہ ہے۔ عقوبت خانے، عذاب گھر، موت گھاٹ شروع ہی سے قائم تھے اور چھ سات ہزار دہشت گردوں کو انہی عقوبت خانوں سے گزارا جاتا تاکہ ایک شخص کے ساتھ وفاداری میں کوئی شک نہ رہے۔ ایم کیو ایم کسی منشور یا کسی سیاسی اور معاشرتی پروگرام سے وابستہ نہیں تھی،اس کا پورا سانچہ ایک مخصوص ٹولے کے آگے سرجھکا دینے اور ان کی ہر خدمت بجا لانے کے لیے بنایا گیا۔ اس دائرے سے جو کوئی باہر نکلنے کی جرأت کرتا،اس کے لیے زندگی یا تنظیم کے دروازے بند تھے۔

انتخابات میں ناقابل تصور کامیابیوں نے الطاف حسین کو اپنی نجی محفلوں میں دل کی بات کہنے کا حوصلہ دے دیا۔ وہ انتہائی قریبی دوستوں سے کراچی کو پاکستان سے الگ کرنے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کرنے لگے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ۸۸ء کے آخری مہینوں میں ایک بااثر گروہ ایم کیو ایم سے الگ ہو گیا جس نے اپنی تحریروں کے ذریعے مہاجر قومیت کے حق میں فضا ہموار کی تھی۔ اس گروہ کے سرکردہ افراد نے انکشاف کیا کہ الطاف حسین، ہانگ کانگ کی طرز پر کراچی کو ایک بین الاقوامی خطہ بنا دینے پر تلا ہوا ہے اور اس کے غیر ملکیوں سے رابطے ہیں۔

اب مشکل یہ آن پڑی کہ ایم کیو ایم سے وابستہ افراد کو عوام کا مینڈیٹ مل چکا تھا اور وفاقی حکومت کو ان کے ووٹوں کی اشد ضرورت تھی۔ بے نظیر صاحبہ نے ایم کیو ایم کے دوٹوں سے اقتدار حاصل کیا،مگر وفاقی کابینہ میں کوئی نمائندگی نہ دی، البتہ سندھ کابینہ میں ایم کیو ایم کے وزیر لیے گئے جو بڑی حد تک بے اثرتھے۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں کراچی اور حیدرآباد میں خونیں فسادات ہوتے رہے اور بے نظیر کے عہد حکومت کا تین چوتھائی حصہ کرفیو کی نذر ہو گیا۔ پھر ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے اسٹوڈنٹس ونگز کے مابین طالب علموں اور نوجوانوں کو یرغمال بنا لینے کے واقعات شروع ہوئے۔ فروری ۹۰ء میں کورہیڈکوارٹر میں دونوں طرف سے یرغمالیوں کا تبادلہ لیفٹیننٹ جنرل آصف نواز کی موجودگی میں ہوا۔

٭٭٭
جون ۹۰ء میں فوجی قیادت نے وزیراعظم بے نظیر سے کہا کہ ہمیں پورے سندھ میں فوجی آپریشن کرنے کی اجازت دے دیجیے اور دستوری دفعہ ۲۴۵ کے اختیارات بھی۔ دراصل ان دنوں الطاف حسین لندن میں تھے اور فوج کو انٹیلی جنس کے ذریعے اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ ان کے رابطے بھارتی سفارت خانے کے ساتھ قائم ہیں۔ بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے ایم کیو ایم کے دہشت گردوں میں اپنے ایجنٹ داخل کر دیے۔ بے نظیر کے وزیرداخلہ، اعتزاز احسن نے جرنیلوں کی بات پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے کسی قدر تند و تیز رویہ اختیار کیا جس کے باعث خاصی تلخی پیدا ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم بے نظیر دفعہ ۲۴۵ کے اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں اور وہ اندرون سندھ فوجی آپریشن کے خلاف ہیں۔

٭٭٭

انٹیلی جنس رپورٹیں مسلسل ایم کیو ایم کے خلاف موصول ہو رہی تھیں۔ یہی وہ زمانہ ہے جب الطاف حسین کے شدید اختلافات بدر اقبال، عامر خان اور آفاق احمد سے پیدا ہوئے۔ تنظیم کے اندر ان تینوں کی حیثیت خاصی اہم تھی۔ انھوں نے فسطائیت کے خلاف بغاوت کر دی۔ کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف نواز نے اس گروپ کی حوصلہ افزائی کی۔ اختلافات بڑھتے گئے اور ایک دن آفاق احمد نے الطاف حسین پر گولی چلا دی جس کے نتیجے میں اس کی ٹانگ میں گہرا زخم آیا اور وہ عباسی شہید اسپتال میں داخل ہو گئے۔ ادھر ان تینوں باغیوں کو پاکستان چھوڑنا پڑا۔ ایک اطلاع کے مطابق ایم کیو ایم کے چیئرمین عظیم احمد طارق انھیں الوداع کہنے ائیر پورٹ پر موجود تھے۔
الطاف حسین جن دنوں اسپتال میں داخل تھے تو امریکا سے عامر خان کا فون آیا۔ اس نے الطاف حسین سے کہا کہ اپنا تکیہ اٹھا کر دیکھیے، وہاں ایک چٹ پڑی ہو گی جس پر میرے دستخط ثبت ہوں گے۔ الطاف حسین نے تکیہ اٹھایا اور اسے عامر خان کے دستخطوں والی چٹ مل گئی۔ اس کے ہوش جاتے رہے۔اتنے میں ٹیلی فون پر عامر خان کی آواز دوبارہ بلند ہوئی، وہ کہہ رہا تھا ’’اب یہی چٹ تمھیں غسل خانے میں ملے گی۔‘‘ معتبر ذرائع کی روایت ہے، الطاف حسین نے اس کے بعد اپنے تینوں محافظوں کو قتل کرا دیا کہ انہی میں سے کوئی باغیوں کا ساتھی ہو گا۔

٭٭٭

۱۹۹۰ء کے انتخابات نے الطاف حسین کو نئی سیاسی رفعتیں عطا کیں۔ پہلی بار وفاقی کابینہ میں ایم کیو ایم کے دو وزیر لیے گئے اور صوبائی کابینہ میں چھے وزرائ۔ جناب جام صادق علی (مرحوم) نے قائد تحریک کے ایسے ایسے ناز اٹھائے جن کی مثال مل ہی نہیں سکتی۔ جناب عرفان مروت نے وہ تحفظ فراہم کیا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جناب وزیراعظم نواز شریف بھی نیاز مندی کے آداب بجالاتے رہے۔ کراچی پر پیر عزیز آباد کا مکمل قبضہ تھا اور سندھ حکومت کی جان اسی کے ہاتھ میں تھی۔

فرعون صفت الطاف حسین نے اقتدار کے نشے میں ایک طرف لوٹ مار کا بازار گرم کر دیا، دوسری طرف اپنے سیاسی مخالفین کو جان سے مار ڈالنے کا سلسلہ آگے بڑھایا۔ جماعت اسلامی کے نیک سیرت کارکن یکے بعد دیگرے قتل کر دیے گئے۔ بظاہر ایم کیو ایم نواز شریف کی حکومت میں شریک تھی لیکن ان کی پالیسی حکومت کو اندر سے کمزور کرنے کی تھی۔ جماعت اسلامی نے ارباب حکومت سے بار بار اپیل کی کہ دہشت گردی کا یہ خوفناک سلسلہ بند کرایا جائے۔ وزیر داخلہ چودھری شجاعت حسین واقعات کی تحقیقات کرنے گئے تو حالات کا علم ہوتے ہی ان کی آنکھوں سے خون ٹپکنے لگا۔ اور یہی حال جناب وزیراعظم کا تھا۔ انھوں نے فرط غم سے کہا تھا، ہم اس قدر ظلم ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔ اقتدار رہے یا نہ رہے ہم دہشت گردوں کا قلع قمع کر کے رہیں گے۔

اس عزم کے باوجود الطاف حسین اپنا ہاتھ دکھا گئے اور جماعت اسلامی کو آئی جے آئی سے بہت دور لے گئے۔ یوں ایم کیو ایم کی قیادت نے نواز شریف حکومت پر ایک اور کاری وار کیا۔ ۲۶؍جون ۹۰ء کو لاہور میں تیرہ افراد قتل کر دیے گئے اور تین روز بعد شیخوپورہ میں اسی نوعیت کا لرزہ خیز واقعہ رونما ہوا۔ قتل کی واردات میں جو سو فسٹیکیشن پائی جاتی تھی، وہ اشارہ کر رہی تھی کہ یہ کام ایم کیو ایم کا ہے، مگر اس تنظیم کے پاس اسٹریٹ پاور بھی تھی اور اسٹیٹ پاور بھی، اس لیے پولیس نے ادھر کا رخ ہی نہیں کیا۔ اب اخبارات میں خبر شائع ہوئی ہے کہ اسلام پورہ کے واقعہ قتل میں ملوث ایم کیو ایم کے چھے افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ ملزم تو ایک سال بعد گرفتار ہو گئے مگر اسلام پورہ کے ہولناک واقعے کے بعد جناب وزیراعظم نے جاپان کا جو دورہ منسوخ کر دیا تھا، اس کے نقصانات کا ازالہ شاید کبھی نہ ہو سکے۔

مارچ ۹۱ء میں حد سے بڑھی ہوئی مستیٔ اقتدار نے ایک اور گل کھلایا۔ ایم کیو ایم نے آغاز تشکیل ہی سے روزنامہ جنگ پر اپنی ساری توجہ مبذول کر دی تھی۔ پہلے منت سماجت سے خبریں لگوائیں جاتی رہیں اور الطاف حسین کا امیج کراچی کے افق پر پھیلتا چلا گیا۔ جب دہشت گردی پوری طرح منظم ہو گئی تو اخبارات پر دبائو ڈال کر اپنی مرضی کی خبریں چھپوائی جانے لگیں۔ جنگ نے ایم کیو ایم کا جس قدر ساتھ دیا، اس کے ساتھ اسی قدر ظالمانہ سلوک روا رکھا گیا۔ میر خلیل الرحمن (مرحوم) کے اعصاب اسی نوع کے کرب عظیم کے سامنے جواب دے گئے۔ اسی طرح ڈان کے دفتر میں مسلح افراد کا گھس آنا اور ایڈیٹر کو مارڈالنے کی دھمکیاں دینا روزمرہ کا معمول بن گیا۔ پورے کراچی کا پریس ایم کیو ایم کا یرغمال بنا ہوا تھا۔ کسی کی مجال نہیں تھی کہ الطاف حسین یا ایم کیو ایم کے بارے میں کوئی ایسی بات چھپ جائے جو مزاج شاہی پر ناگوار گزرتی ہو۔ ہفت روزہ تکبیر، روزنامہ جسارت اور ہفت روزہ زندگی نے بڑی ہمت سے فسطائیت کا مقابلہ کیا اور ہمارے دوست محمد صلاح الدین سب سے زیادہ حوصلہ مند اور مجاہد نکلے۔ وہ سفاک اور بھیڑیا صفت دہشت گردوں کے سامنے کلمۂ حق کہتے رہے۔ اس جرأت و استقامت کی انھیں بڑی قیمت ادا کرنی پڑی۔

اسی کشمکش کے دور میں ایک دن ایسا آیا کہ ایم کیو ایم نے کسی بات کا بہانہ بنا کر ڈان کے خلاف اعلان جنگ کیا اور تمام بڑے اخبارات کے دفتروںپرہلہ بول دیا۔ ڈیڑھ دو ہفتے کراچی کا پریس ایک دردناک عذاب سے گزرتا رہا جس سے نجات دلانے میں صوبائی اور وفاقی حکومت دونوں ہی بے بس دکھائی دیں۔ تب سی پی این ای اور اے پی این ایس کے نمائندے عزیز آباد طلب کیے گئے۔ ان سے پیر صاحب کی موجودگی میں معافی نامے پر دستخط کرائے گئے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا روح فرسا واقعہ پہلے کبھی پیش نہیں آیا تھا۔ اس انتہائی شرم ناک واقعے نے جہاں ایک طرف حکومت کی ساکھ اور وقار کو شدید نقصان پہنچایا، وہاں پوے پاکستان کا پریس ایم کیو ایم سے شدید نفرت کرنے لگا۔

معاشرے کے اہم اور نہایت بااثر عناصر سے کٹ جانے کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ پیپلزپارٹی پہلے ہی خلاف تھی، جماعت اسلامی کے غیظ و غضب میں بھی زبردست اضافہ ہو گیا۔ اب حکمراں جماعت بھی سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ بلیک میلنگ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میڈیا کی طرف سے صحافت پر مسلح حملوںکے خلاف شہر شہر اور قریے قریے اجتماعات ہوئے۔ ان اجتماعات میں زیادہ تر ایم کیوایم کا غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر جمہوری طرز عمل زیر بحث آتا تھا۔

٭٭٭

یہ جون ۹۱ء کی بات ہے کہ ایم کیو ایم نے میجر کلیم اور اس کے چند ساتھیوں کو گرفت میں لے کر ٹارچر سیل میں پہنچا دیا اور انھیں غیر معمولی اذیت پہنچائی۔ معتبر شواہد کے مطابق انھیں ننگا کر کے الٹا لٹکا دیا گیا اور ان کی تصویریں لی گئیں۔ فوج کا خون کھولنے لگا۔ جنرل مرزا اسلم بیگ نے حکومت کے سامنے ایم کیو ایم کے خلاف کریک ڈائون کی تجویز رکھی اور یہ اشارہ دیا کہ مسلح افواج کا وقار ایک بار پامال ہو جائے تو پھر خوفناک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ جنرل صاحب کا مشورہ جناب وزیراعظم نے مختلف وجوہ سے قبول نہ کیا۔ ایک طرف انھیں بڑے پیمانے پر خون خرابے کا خوف تھا اور دوسری طرف سندھ حکومت کو بھی قائم رکھنا تھا جو آپریشن کلین اپ کے نتیجے میں فوری طور پر ختم ہو جاتی اور نیا سیاسی بحران پیدا ہو جاتا۔ پھر وزیراعظم کو یہ تاثر بھی دیا گیا کہ جنرل مرزا اسلم بیگ فوجی آپریشن کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

٭٭٭

قائد تحریک جوں جوںاقتدار اور اختیار کے نشے سے مغلوب ہوئے، اتنی ہی ان کی اندرونی مخالفت میں اضافہ ہوتا گیا۔ باغیوں نے اپنا اثر و رسوخ ایک ڈیڑھ سال میں بہت بڑھا لیا۔ وہ اپنے نوجوانوں تک یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب رہے کہ الطاف حسین نے معاشرے کے انتہائی تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ طبقے کو ذلیل و رسوا کر کے رکھ دیا ہے۔ ہنستے بستے شہر اجڑ گئے۔ کاروبار ٹھپ ہے۔ صنعتی زندگی مفلوج ہو چکی ہے۔ روزگار کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ کم ہو گئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مہاجر پورے ملک سے کٹ گئے ہیں اور انھیں دہشت گرد تصور کیا جانے لگا۔ اس پیغام کے پھیلنے سے الطاف حسین کا اصل بیس بری طرح متاثر ہوا۔ کراچی میں رہنے والے شہریوں کے چہروں سے عام بیزاری ٹپکتی تھی۔ ایک ہی طرح کے فقرے اور ایک ہی طرح کے نعرے سن سن کر کان پک گئے۔ بدعنوانیوںاور بدقماشیوں کے قصے باہر آنے لگے۔ یہ راز بھی کھل چکا تھا کہ ایم کیو ایم کے نام پر جمع ہونے والے فنڈز کا اکائونٹ الطاف حسین کے نام پر ہے اور وہی تمام اختیارات اوروسائل کے مالک ہیں۔ عورتوں کی عصمتیںلوٹنے کے دردناک واقعات بھی زبانوں پر آنے لگے۔ خوف کی دبیز تہہ ٹوٹتی جا رہی تھی۔

٭٭٭

جنرل آصف نواز نے فوج کی قیادت سنبھالتے ہی ایم کیو ایم کو ایک نئی شکل دینے کی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا۔ انھوں نے جنرل صبیع قمرالزمان کو اسٹیل مل کا چیئرمین بنا کر بھیجا جنھوں نے حالات کو سنوارنے کے لیے بعض اہم اقدامات کیے۔ اسٹیل مل ایم کیو ایم کا ایک انتہائی مضبوط قلعہ تصور ہوتا تھا۔ اس نے جنرل کے خلاف پوری قوت سے محاذ آرائی شروع کر دی۔ سیاسی مصلحتوں سے بے بس ہو کر سیاسی حکومت نے اسٹیل مل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل صبیح قمرالزمان کو بعض اقدامات واپس لینے پر مجبور کیا۔ انھوں نے بادل ناخواستہ کچھ احکام واپس تو لے لیے مگر فوجی قیادت پر یہ عمل نہایت شاق گزرا۔ اسے شدید احساس ہوا کہ یہ فاشٹ تنظیم ملکی مفادات سے غداری پر تلی ہوئی ہے اور ہر اہم ادارے کو سیاست کا اکھاڑہ بنا دینا چاہتی ہے۔

٭٭٭

دراصل مہاجروں کا مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد الطاف حسین کے عزائم نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا وہ سمجھ بیٹھے کہ ساری سیاست ان کے گرد گھوم رہی ہے۔ صدر مملکت بھی ان سے بات کرنے پر مجبور ہیں اور وزیراعظم بھی۔ ٹی وی پر ایم کیو ایم کو تناسب سے کہیںزیادہ وقت دیا جا رہا تھااور وفاقی وزراء ان کے آستانے پر گھنٹوں انتظار کرتے۔ الطاف حسین بادشاہ گر بن بیٹھے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ قومی سیاست میں بھی ایک مرکزی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں، اسی لیے متحدہ قومی موومنٹ کا فلسفہ پیش کیا جا رہا تھا۔ انھیں اپنے سحر خطابت پر غیر معمولی اعتماد تھا اور ایک بار لاہور میں ان کی تقریر نے ایک سماں باندھ دیا تھا… مگر ایم کیو ایم ایک دہشت گرد اور لسانی عصبیت پر اٹھی ہوئی تنگ نظر تنظیم تھی۔ اسی لیے اس میں شگاف پڑنے شروع ہو گئے۔ ان کی قوت کا راز عوامی حمایت سے زیادہ ان چھے سات ہزار دہشت گردوں میں چھپا ہوا تھا جن کی تربیت فسطائی ماحول میں کی گئی تھی۔ اس فسطائی ذہن نے انسانیت، جمہوریت اور خود مہاجرین کو جو قابل تلافی نقصان پہنچایا، اس کا پورا منظر آپریشن کلین اپ سے قوم کے سامنے آ گیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ الطاف حسین نے مہاجرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے ان کی آواز میں قوت اوروزن پیدا کیا۔ پہلی بار سندھ کی سیاست میں انھیں معقول حصہ ملا اور وفاقی کابینہ میں بھی انھیں معقول نمائندگی میسر آئی مگر اس تمام جدوجہد میں الطاف حسین کے دہشت گردوں نے پوری مہاجر آبادی کو یرغمال بنا لیا۔ ان کی تخلیقی اور تعمیری صلاحتیں نعروں اور جلسوں کی زنجیروں میں جکڑ دی گئیں۔ عقوبت خانوں میں زیادہ ترمہاجروں ہی پر تشدد کیا گیا اور وہ تہ تیغ کیے گئے۔ اور اس مہاجر تحریک نے آگے چل کر جورنگ اختیار کر لیا تھا اس کے باعث پورا سندھ نفرتوں کا آتش کدہ بن گیا۔

حکومت نے آپریشن کلین اپ کے جو مقاصد مختلف بیانات کے ذریعے ظاہر کیے، وہ تین بڑے نکات پر مشتمل تھے:
۱۔ سندھ کو ڈاکوئوں، تخریب کارو، قانون شکنوں، پتھاریداروں اورملک دشمن عناصر سے نجات دلائی جائے خواہ ان کا تعلق کسی بھی بڑی جماعت یا بااثر طبقے سے ہو۔
۲۔ آپریشن شہروں اور دیہات میں کامل غیر جانب داری سے کیا جائے۔
۳۔ صوبائی حکومت کی اتھارٹی اور امن عامہ چھے ماہ کے اندر اندر بحال کر دیے جائیں۔
ان تین بڑے مقاصد کے پیش نظر آپریشن کا جو بھی پلان تیار ہو گا اس میں اغوا کا کاروبار کرنے والوں، ڈاکوئوں اور الذوالفقار کے تخریب کاروں کے علاوہ ایم کیو ایم کے دہشت گرد بھی قدرتی طور پر شامل ہوںگے۔ سیاسی ڈاکوئوں کا قلع قمع اور بھی ضروری تھا کہ وہ ریاست کے لیے بہت بڑا خطرہ بنتے جا رہے تھے۔ جن دنوں میجر کلیم اور ان کے ساتھیوںکو اذیت پہنچائی گئی، بعض اخبارات اور حلقوں نے اس اندیشے کا اظہار کیا تھا کہ مسلح افواج اس بے عزتی کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کریں گی۔ تب ایم کیو ایم کے ’’جیالے‘‘کہتے پھرتے کہ فوج ہمارے علاقوں میں آ کر تودیکھے، ہم اس کی تکا بوٹی کر دی گے۔ ماحول میں جب تنائو حد سے بڑھا تو کراچی کے کور کمانڈر جنرل بنگش نے ایم کیو ایم کے چیئرمین عظیم احمد طارق اور وائس چیئرمین سلیم شہزاد کو اپنے گھر پر مدعو کیا اور حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کرنے لگے۔ دوران گفتگو چیئرمین صاحب طیش میں آ گئے اور جنرل صاحب سے کہنے لگے ’’ اگر فوج آئی تو ہم خون کی ندیاں بہا دیں گے اور اس کا ایسا حلیہ بگاڑیں گے جو سب کے لیے سامان عبرت بن جائے گا۔‘‘
٭٭٭
آپریشن کلین اپ کو آخری شکل سیاسی قیادت اور فوجی قیادت نے باہمی مشوروں کے بعد دی۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ فوجی قیادت نے اپنی بریفنگ میں زیادہ تفصیلات ڈاکوئوں، پتھاریداروں اور الذوالفقار کے تخریب کاروں کے بارے میں فراہم کی تھیں۔ ۴؍جون کو جی ایچ کیو میں جو بریفنگ ہوئی اس میں جناب وزیراعظم نواز شریف تشریف لے گئے۔ فوج نے ڈاکوئوں اور پتھاریداروں کی سلائیڈز تیار کر رکھی تھیں جن میں ڈاکوئوں کے تمام گروہوں اور ان کے پشتی بانوںکے نام اور مکمل کوائف درج تھے۔ باخبر حلقوں کی زبان پر یہ بات عام ہے کہ ان پتھاریداروں میں پہلے نمبر پر آصف زرداری اور تیسرے نمبر پر غوث علی شاہ کے نام تھے۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ اس بریفنگ میںوزیراعظم اپنے ساتھ وزیردفاع کو لے کر نہیں گئے۔
۴؍جون کی بریفنگ میں ایم کیو ایم کے تین ارکان قومی اسمبلی کے نام بھی دہشت گردوںاور قانون شکنوں میں تھے۔ فوجی قیادت کا غالباً تصور یہ ہو گا، ایک بات سبھی کو معلوم ہے کہ الطاف حسین اور اس کی نامزد قیادت نے ریاست کے اندر ایک ریاست قائم کر رکھی ہے۔ اس کی شورش پسند ی کے باعث کراچی کی بندرگاہ، اسٹیل مل اور پاکستان کی اقتصادی شہ رگ غیر محفوظ ہے، اس لیے اس دہشت گرد تنظیم کے بارے میں کچھ زیادہ بریفنگ کی ضرورت نہیں۔ فوجی آپریشن ہو گا تو شہری دہشت گردوں سے بھی نمٹ لیا جائے گا۔ حکومت خود کہہ رہی ہے کہ مجرم کا تعلق اگر ہماری جماعت سے ہو تو اس کے خلاف بھی ایکشن ہونا چاہیے۔
فوجی قیادت کے اس تصور کے برعکس شاید سیاسی قیادت کی سوچ یہ تھی کہ پچھلے پونے دو سال سے شہروں میں امن ہے اور ایم کیو ایم ہماری حلیف جماعت ہے، لہٰذا اس کے خلاف آپریشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر ہو گا تو اندرون سندھ امن قائم کرنے کے بعد۔ اس نقطہ نگاہ میں سیاسی وزن تو ہے مگر اس میں عملی فراست کا فقدان بہت نمایاں ہے۔ اگر فوجی قیادت اور سیاسی قیادت کھل کر تبادلہ خیال کرتیں اور حکومت واضح تعین کے ساتھ فوجی آپریشن کا دائرہ کار طے کر دیتی تو پھر کوئی ابہام نہ رہتا۔ باہمی گفتگو کے نتیجے میں حکومت اپنے نقطہ نظر میں تبدیلی کر کے فوجی آپریشن سے پیدا ہونے والے سیاسی حالات کا مقابلہ کرنے کی تیاری کرتی۔ عجلت میں سیاسی قیادت نے غوروفکر سے کام لینے کو اپنی کسر شان سمجھا اور آپریشن کلین اپ کا سگنل دے دیا۔

٭٭٭

فوج اگر صرف اندرون سندھ ایکشن کرتی اور شہروںمیں پھیلی ہوئی دہشت گردی اور سیاسی ڈاکہ زنی سے آنکھیں بند کر لیتی تو سندھیوں کی طرف سے مخالفت کا ایک طوفان کھڑا ہو جاتا جو تھمنے کا نام ہی نہ لیتا۔ اسے عالمی پریس اور الیکٹرانک میڈیا میں بغاوت کا نام دیا جاتا۔ فوج نے امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر پہلے اندرون سندھ ہی پر زیادہ توجہ دی اور بھارت میں تربیت حاصل کرنے والے الذوالفقار سندھ کے تخریب کاروں پر ہی ہاتھ ڈالا تھا۔ مگرایک ڈیڑھ ماہ کے واقعات اس حقیقت کی طرف واضح اشارے کرتے ہیںکہ فوجی آپریشن کو ناکام بنانے یا اس کا خ غلط سمت میں موڑنے کے لیے کہیں سازش ہوئی ہے یا کسی اہم سطح پر مجرمانہ غفلت کا ارتکاب ہوا ہے۔

سندھ میں فوجی آپریشن کی افواہیں جنوری ۹۲ء کے شروع ہی سے پھیلنے لگی تھیں۔ الطاف حسین انہی خبروں کی دہشت سے خوفزدہ ہو کر پاکستان سے رات کی تاریکی میں فرار ہوئے۔ سعودی عرب میںایک ماہ ٹھہر کر اور اپنے مریدوں سے لاکھوں ڈالر وصول کر کے لندن چلے گئے جب فوجی آپریشن کا خطرہ اور قریب آ گیا تو ایم کیو ایم کی قیادت نے صدر مملکت جناب غلام اسحاق خان سے رابطے قائم کیے اور ان پر سیاسی دبائو ڈالا کہ مہران فورس کو صوبائی حکومت کی تحویل میں دے دیا جائے۔ مہران فورس ڈاکوئوں، تخریب کاروں اور شہری دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کر رہی تھی کیونکہ اسے فوج کی حمایت اور طاقت حاصل تھی۔

ایک سال کے عرصے میںبڑے بڑے ڈاکو مارے گئے تھے اور ٹرینوں، سڑکوں اور قصبوں پر حملوں میں سرعت سے کمی آ رہی تھی۔ ایم کیو ایم کی دہشت گردی میں بھی فرق آ رہا تھا اور اس پر مہران فورس کا دبائو بڑھتا جا رہا تھا۔ سندھ کی حکومت کو بچانے کے لیے صدر مملکت نے جناب وزیر اعظم سے بات کی اور مہران فورس کو فوجی کور سے نکال کر حکومت سندھ کے تحت کر دیا گیا، چناںچہ ایم کیو ایم کی گیڈر بھبکیوں میں یک لخت اضافہ ہو گیا۔

٭٭٭
شہری دہشت گردوں اور سیاسی ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن ہوا تو سیاسی بحران سر اٹھانے لگا۔ وزیراعظم ۲۵؍جون کے لگ بھگ بیرونی دورے سے واپس آئے اور ۲۷؍جون کو ازبکستان چلے گئے، چناںچہ وہ امڈتے ہوئے سیاسی بحران کا مکمل احاطہ نہ کر سکے۔ حکومت اور فوج کے تصورات میںابہام و اختلاف کی وجہ سے فوج پوری قوت سے دہشت گردی کا قلع قمع نہ کر سکی، مگر اس نے دہشت گردی کی آہنی زنجیروں میں جکڑے ہوئے کراچی کو جس اعلیٰ مہارت اور جس بے مثال حکمت عملی سے آزاد کرایا، اس نے پوری قوم کے دل جیت لیے۔ مشکل اب یہ آن پڑی کہ وزیر اعظم کی غیر موجودگی میں ان کی جماعت اور کابینہ کا ایک فرد بھی ایسا نہیں تھا جو فوجی قیادت کی طرح جرأت مندانہ اقدام کی صلاحیت رکھتا ہو۔ فوج نے ایک بڑا کارنامہ انتہائی کم وقت میں اور خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر سر انجام دیا تھا۔ الطاف حسین کے اس نظام سے پردہ اٹھایا تھا جو انھوں نے حسن بن صباح، ہٹلر اور مسولینی سے مستعار لیا تھا، اس کی ٹھیک ٹھیک پروجیکشن ٹی وی پر نہیں ہو سکی۔

حکومت کی طرف سے متضاد سگنل ملنے کے باعث فوج نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کیا ہی نہیں۔ مجرم گرفتار ہوئے نہ بڑی تعداد میں اسلحہ پکڑا گیا۔ سندھ کے وزیراعلیٰ کا سب سے بڑا مسئلہ اپنی حکومت بچانے اور اپنے حلقہ اثر کو محفوظ رکھنے کا تھا۔ وہ ایک طرف جی ایم سید کو اطلاعات فراہم کر رہے تھے اور دوسری طرف ایم کیو ایم سے وابستہ ارکان اسمبلی کو تحفظ دینا چاہتے تھے۔ سیاسی مفادات قدم قدم پر قومی مقاصد کی راہ میں حائل ہو رہے تھے، چناںچہ ۲۴گھنٹے گزرنے کے بعد بھارتی ایجنٹوں سے رابطے رکھنے، پاکستان کی سلامتی سے کھیلنے اور اپنے ہی لوگوں کی عزتیں لوٹنے والے برسر زمیں آ گئے اور حکومت پر دبائو ڈالنے کے ہتھکنڈے استعمال کرنے لگے۔ انھیں غیر ملکی نشریاتی اداروں پر اپنے خیالات کے اظہار کی آزادی تھی اور وہ اخبارات کے ذریعے حکومت پر غرانے کی مشق بھی فرما رہے تھے۔ حکمران جماعت کے پاس چونکہ اس نئی صورت حال سے نمٹنے کا منصوبہ ہی نہیں تھا اور اس کی قیادت میں سیاسی طور پر سوچنے اور عمل کرنے کی صلاحیت بڑی محدود تھی، اس لیے ایم کیو ایم کی زخمی قیادت نے اپنے مہروں سے کہا کہ وہ اسمبلیوں اور وزارتوں سے مستعفی ہو جائیں، چناںچہ اس ڈائریکٹو پر عمل شروع ہو گیا اور استعفے آنے لگے۔

٭٭٭

ان استعفوںنے ایک طرف حکومت کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا تو دوسری طرف پی ڈی اے کو سخت آزمائش سے دوچار کر دیا ہے جو قومی حکومت کی تشکیل کے خواب دیکھ رہی تھی۔ بے نظیر نے کہا تھا، ہم جمہوریت اور سیاسی نظام کو تحفظ دینے کی خاطر تعاون کا ہاتھ بڑھا سکتے ہیں۔ دو روز بعد اعتزاز احسن نے کسی لاگ لپیٹ کے بغیر کہا کہ ہم قومی حکومت میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اس خواہش بے جا پر مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے شدید تنقید کرتے ہوئے اسے آئین کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے اور فوج کو یہ پیغام دیا ہے کہ سندھ کے اصل تخریب کار تو الذوالفقار تنظیم کے افراد ہیں جسے پیپلزپارٹی کی شروع ہی سے سرپرستی حاصل رہی ہے۔
ایم کیو ایم کے استعفوں نے بے نظیر کی منافقت پوری طرح بے نقاب کر رہی ہے۔ وہ کہتی آئی ہیں کہ اسمبلیاں بوگس ہیں تو پھر ان کی جماعت کے ارکان استعفے کیوں نہیں دیتے۔ ایک گروہ دے سکتا ہے تو دوسرے گروہ کے، اندر بیٹھے رہنے کا کیا جواز ہے؟ آج اسی زندہ تقابل نے پیپلزپارٹی کی سنٹر ورکنگ کمیٹی کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم بھی استعفے دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ اس نے صدر مملکت، وزیراعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ سے مستعفی ہونے کامطالبہ کیا ہے۔

ملک ایک زبردست سیاسی کشمکش کی طرف لڑھک رہا ہے۔ ایک ایسی کشمکش جو پورے سیاسی نظام ہی کو تلپٹ کر سکتی ہے۔ماضی کا سبق یہ ہے کہ ملک میں ایک بھی فوجی آپریشن اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا۔ اور اس بار کامیابی کی امید اس لیے پیدا ہوئی کہ تاریخی اورجغرافیائی حقیقتوں کے مکمل ادراک سے ایک ایسے آپریشن کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جواندھیروں، عصبیتوںاور ہر نوع کے سیاسی فتنوں سے بلند ہو۔ ہماری قومی زندگی کا دامن بالعموم اس لیے تار تار ہوتا رہا کہ ہم نے اصولوں، اعلیٰ قدروں اور کھلے ذہنوں کے بجائے وقتی مصلحتوں، درپردہ سازشوںاور غیر فطری راستوں کو اہمیت دی ہے۔ سندھ آپریشن میں اگر قوم اصولوں کاساتھ دے گی اور اقتدار کے رسیا قومی اور ملکی مقاصد پر سیاسی مفادات قربان کرنے کا حوصلہ دکھائیں گے تو ہماری تاریخ میں ایک سنہرے باب کا اضافہ ہو سکے گا۔

Watch Full Movie Online Streaming Online and Download