اقوال زریں
  • جن کا کوئی نہیں ہوتا،ان کا خدا ہوتا ہے۔
  • اپنی کمزوری کا احساس ہو تو یہ طاقت بن جاتی ہے۔
  • ظلم بڑا مزیدار کام ہے جب تک دوسروں پر کیا جائے۔
  • بچہ انسان کا ہو یا جانور کا،دونوں کو پیارا ہوتا ہے۔
  • خاموشی خود ایک زبان ہوتی ہے۔

Salman Khan ki Khan Academy | سلمان خان کی خان اکیڈمی

ادارہ

بہت سے لوگ سماجی تبدیلی کے اچھے منصوبے شروع کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں جن سے عام لوگوں کی زندگی میں بہتری اور آسانی لائی جائے لیکن وسائل کی کمی کا خوف اور اچھی ٹیم کا نہ ہونا انھیں ایسے منصوبوں پہ عمل سے روکتا ہے۔ خان اکیڈمی کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ایک باہمت شخص اپنی استطاعت کے مطابق پہلا قدم اٹھا لیتا ہے تو اس کے سارے راستے خودبخود ہموار ہونے لگتے ہیں۔

سلمان کی خان اکیڈمی غیرمنافع بخش ادارہ ہے جو ۲۰۰۶ء میں قائم ہوا۔ اس کا مقصد دنیا کے ہر شخص کو مفت اور معیاری تعلیم مہیا کرنا ہے۔ سلمان نے مختلف مضامین کے لیے اپنے لیکچرز خود ریکارڈ کیے اور طالب علموں کے لیے انھیں انٹرنیٹ پر مہیا کردیا۔ اب انٹرنیٹ پر ان مفت تعلیمی لیکچرز کی تعداد ۳۲۰۰ سے تجاوز کرچکی ہے۔ یہ حساب، تاریخ، ہیلتھ کیئر، طب، فنانس، فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، علم فلکیات اور کمپیوٹرسائنس کے مضامین پر مشتمل ہیں۔ سلمان خان امریکا میں پیدا ہوا۔ اس نے ایم آئی ٹی یونیورسٹی سے حساب میں بی ایس  اور الیکٹریکل انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس میں بی ایس اور ایم ایس  کی ڈگریاں حاصل کیں۔

خان اکیڈمی کا سفر ایک فون کال سے شروع ہوا۔ نادیہ امریکا میں ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ اسے الجبرا سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ اس نے اپنے کزن سلمان خان کو کال کی کہ وہ اس کی مدد کرے۔ سلمان اپنا ایم بی اے مکمل کر چکا تھا۔ اس کی شادی ہو چکی تھی اور وہ بوسٹن میں ملازمت کر رہا تھا۔ اس نے اپنی مصروفیات سے وقت نکالنا شروع کیا اور نادیہ کو فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے پڑھانے لگا۔ نادیہ کے بھائی علی اور ارمان بھی اس کلاس کا حصہ بن گئے۔ کچھ عرصے بعد سلمان کو خیال آیا کیوں نہ ان لیکچرز کو ریکارڈ کر لیا جائے اور ان کو انٹرنیٹ پر رکھ دیا جائے۔ اس طرح سلمان کے لیے بھی آسانی پیدا ہوگئی کہ وہ اپنی فرصت کے مطابق لیکچر ریکارڈ کر لیتا اور بچے بھی اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی وقت ان لیکچرز کو انٹرنیٹ پر دیکھ سکتے بلکہ وہ ان کو بار بار سن کر اپنے سوالات زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتے تھے۔نادیہ، علی اور ارمان کے ہم جماعت اور دوست بھی ان لیکچرز سے فائدہ اٹھانے لگے۔ کئی سکول بھی ان سے مدد لینے لگے۔

سلمان یہ لیکچرز اپنے چھوٹے سے کمرے میں ریکارڈ کرتا تھا اور اس کے پاس وسائل محدود تھے۔ ۲۰۰۳ء میں سلمان نے جب آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروع کیا تو ٹیکنالوجی بھی آج جتنی سازگار نہیں تھی۔ این ڈوارر  نامی خاتون نے ۱۰ ہزار ڈالر کی مدد فراہم کی جو اس کے لیے بڑی قیمتی ثابت ہوئی۔  ۲۰۰۹ء میں سلمان نے فنانس کے شعبے میں اپنی فل ٹائم جاب چھوڑ دی اور اپنی بیوی کو اعتماد میں لیتے ہوئے اپنے پڑھانے کے مشغلے اور شوق کو پوری طرح اپنانے کا فیصلہ کیا۔

ان لیکچرز کی مقبولیت میں اضافہ ہوا تو بِل اینڈ میلنڈا گیٹس فائونڈیشن کی طرف سے ۵ئ۱ ملین ڈالر کی امداد ملی۔ پھر گوگل نے ۲ ملین ڈالر کا اعلان کیا تاکہ مزید تعلیمی لیکچرز تیار کیے جائیں اور دنیا کی بڑی زبانوں میں ان کا ترجمہ بھی کیا جائے۔  دنیا کی بڑی یونیورسٹی ایم آئی ٹی کے ویڈیولیکچرز بھی انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں لیکن سلمان کے لیکچرز ان سے زیادہ مقبول ہیں۔ سلمان خان کے لیکچرز یوٹیوب پر ۱۴۰ ملین بار دیکھے جا چکے ہیں جبکہ ایم آئی ٹی کے ۳۶ ملین بار دیکھے گئے ہیں۔ ۳ لاکھ ۲۰ ہزار سے زائد لوگ خان اکیڈمی کی ویب سائٹ پر اپنے اکائونٹ بھی رکھتے ہیں۔ مختلف فلاحی ادارے ایشیا، لاطینی امریکا اور افریقہ کے علاقوں میں اس تعلیمی مواد کا آف لائن ورژن تقسیم بھی کر رہے ہیں تاکہ وہاں تعلیم عام کی جا سکے۔ سلمان خان کا نام ٹائم میگزین نے ۱۰۰ مؤثرترین افراد کی فہرست میں بھی شامل کیا۔ سلمان کو اس سال ایم آئی ٹی اور رائس یونیورسٹی میں طالب علموں سے خطاب کے لیے بھی مدعو کیا گیا۔

سلمان کا انداز روایتی لیکچر سے مختلف ہوتا ہے اس میں سلمان خان کا چہرہ دکھائی نہیں دیتا۔ ایسا لگتا ہے جیسے طالب علم اپنے کسی دوست کے ساتھ مل کر کسی چیز کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ہر لیکچر ۱۵ – ۲۰ منٹ دورانیہ کا ہوتا ہے۔ اس کے لیکچرز سے بچے بور بھی نہیں ہوتے۔ وہ ان کا سکرپٹ بھی نہیں لکھتا بلکہ یہ چیز ذہن میں رکھتا ہے کہ یہ باتیں ایک ۷  سالہ بچہ آسانی سے سمجھ سکے۔ نہ ہی کوئی خاص تیاری کرتا ہے۔ اس کی تیاری یہ ہوتی ہے کہ موضوع کو خود اچھی طرح سمجھتا ہے جس میں ۱۰  منٹ بھی لگ سکتے ہیں اور پورا ہفتہ بھی۔

بچے کہتے ہیں کہ سلمان وہ چھوٹے چھوٹے نقطے بھی سمجھاتا ہے جن کو کئی اساتذہ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بل گیٹس نے اس کے لیکچرز کے بارے میں کہا ’’سلمان جس طرح مشکل موضوعات سمجھاتا ہے یہ بہت متاثرکن ہے اور ایک شخص اتنے مضامین پڑھا سکے یہ بات مجھے بہت حیران کرتی ہے۔‘‘ سلمان نے ایسا ٹول بھی متعارف کروایا جس سے اساتذہ بچوں کی کارکردگی کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ وہ معلوم کر سکتے ہیں کہ بچوں نے کتنی ویڈیوز دیکھیں اور کتنے سوالوں کے جواب دیے۔ سلمان خان نے ان ویڈیوز میں کھیل جیسی دلچسپی بھی پیدا کی ہے۔ بچوں کو اچھی کارکردگی پر پوائنٹس ملتے ہیں جس سے وہ خوشی کے ساتھ اپنی تعلیم میں مصروف رہتے ہیں۔

خان اکیڈمی کی تعلیم پر اعتراض بھی کیا جا رہا ہے کہ یہ رٹنے کی عادت کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے لیکن سلمان کا کہنا ہے کہ بچے جب لیکچرز گھر پر دیکھ لیتے ہیں تو انھیں سکول میں آرٹس، گیمز اور مل جل کر سوچنے جیسی تخلیقی سرگرمیوں کے لیے زیادہ وقت مل جاتا ہے۔ ۲ ہزار ویڈیو لیکچرز تیار کرنے کے بعد اس نے کچھ اور لوگوں کو بھی دعوت دی کہ حساب، سائنس، ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے علاوہ دیگر مضامین پر اپنے لیکچر خان اکیڈمی کی ویب سائٹ کے ذریعے لوگوں تک پہنچائیں۔

سلمان خان نے ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے طالب علموں سے کیا کہا؟
’’آپ میں سے بہت سے طالب علم جلد باہر کی دنیا میں قدم رکھیں گے اور حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے کہ باہر کی دنیا آپ کے تصور سے زیادہ غیرفعال، غیرمنصفانہ، سیاست سے بھری ہوئی ہے۔ آپ کو ہر طرف مایوسی کا سامنا ہوگا اور نکتہ چیں نظر آئیں گے۔ اس سب کا حصہ بن جانا، نکتہ چینی کرنا اور مایوس ہو جانا بہت آسان ہے لیکن ایسا کرنا آپ کے اپنے لیے اور دنیا کے لیے بہت نقصان دہ ہوگا۔ ان منفی قوتوں کا مقابلہ کرنے، دنیا میں مثبت سوچ کو فروغ دینے، اپنی اور اپنے محبوب لوگوں کی خوشی میں اضافہ کے لیے میری کچھ باتیں شاید آپ کے لیے کارآمد ثابت ہوں۔‘‘

’’ہر صبح کا آغاز ایک مسکراہٹ کے ساتھ کریں چاہے یہ خود پر زبردستی مسلط ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ اس سے آپ کی خوشی میں اضافہ ہوگا۔ سراپا مسکراہٹ بنیں، ہر کسی سے اپنے منہ، اپنی آنکھوں، اپنے کانوں، اپنے چہرے، اپنے بدن سے مسکراتے ہوئے ملیں۔‘‘ ’’توانائی اور امید کا سرچشمہ بنیں۔ ان لوگوں کی صحبت میں بیٹھیں جو آپ کو بہتر بننے میں مدد دیں۔ جب آپ کسی مادی چیز کو حاصل کریں یا کھو دیں تو یاد رکھیں ان کی کچھ زیادہ اہمیت نہیں۔ آپ کو صحت، اچھے رشتے اور احباب ملیں ہیں، ان کے مقابلے میں مادی چیزوں کی کوئی وقعت نہیں۔‘‘

’’جب آپ کسی کامیابی کی خوشی میں سرشار ہوں تو تنہا کسی کھلی جگہ کی طرف نکل جائیں۔ اپنا نام، عہدہ، اپنی تعلیم کو بھلادیں۔ اپنے آپ کو وہ سمجھیں جو آپ حقیقی طور پر ہیں۔ یعنی بہت سے حیوانات میں سے ایک جو اس بات کے لیے شکرگزار ہو کہ یہ تہذیب کسی زور دار دھماکا سے تباہ ہونے سے ابھی تک محفوظ ہے۔‘‘ ’’آپ تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ جس چیز کو کرنے کے لیے کئی لوگوں اور کتنے ہی سالوں کی محنت کی ضرورت ہوتی تھی اب اسے ہمت اور جذبے سے سرشار چند لوگ اپنے چھوٹے سے کمرے میں رہتے ہوئے کر سکتے ہیں۔ میری مثال بھی ایسی ہی ہے۔‘‘

اپنی اس تقریر میں سلمان خان نے زندگی کو پچھتاووں سے محفوظ رکھنے کے لیے دلچسپ مشورہ دیا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ فرض کریں کہ ۵۰  سال گزر چکے ہیں اور آپ کی عمر ۷۰  کے عشرے میں داخل ہو چکی ہے۔ آپ کسی آرام دہ جگہ پر بیٹھے اپنے کیرئیر کی کامیابیوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ گزرے اچھے وقت کے بارے میں سوچتے ہیں۔ پھر آپ اپنے پچھتاووں کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں کہ کاش میں نے اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارا ہوتا۔ شریکِ حیات سے زیادہ محبت کا اظہار کیا ہوتا۔ اپنے والدین کو اکثر بتایا ہوتا کہ میں ان سے کتنی محبت کرتا ہوں۔ میں نے اپنی صلاحیتوں کو دنیا کو اچھا بنانے کے لیے زیادہ بہتر انداز میں استعمال کیا ہوتا۔ پھر آپ کو موقع ملتا ہے کہ آپ واپس ۵۰ سال پہلے کی حالت میں آجاتے ہیں۔ اب اپنے اُس وقت کے پچھتاووں کو سامنے رکھیں اور زندگی کو ایسے بھرپور انداز میں گزاریں کہ آنے والے پچھتاووں سے بچ سکیں۔

سلمان خان نے رائس یونیورسٹی کے طالب علموں سے کیا کہا؟
’’ہماری استطاعت چاہے محدود ہی کیوں نہ ہو ہمیں اُن لوگوں کو سراہنا اور ان کی مدد کرنی چاہیے جو اچھا کام کر رہے ہیں۔ خاموش بیٹھے ان اچھے کاموں کو دیکھتے نہ رہیں بلکہ انھیں تسلیم کریں۔ اس طرح پوری دنیا میں ان کاموں کے لیے آسانیاں پیدا ہونے لگیں گی۔‘‘ اس تقریر کے موقع پر سلمان نے اپنی محسن این ڈوارر نامی خاتون کی تعریف بھی کی کہ کس طرح اس کی مالی مدد سے خان اکیڈمی نے مشکل وقت میں بھی اپنا کام جاری رکھا۔

کامیاب کاروباری اور سماجی فلاحی منصوبوں کے پیچھے کارفرما اصول کے بارے میں کہا جاتا ہے ’’کچھ ایسا کریں جسے کرنے کا آپ کو جنون ہو اور اسے شروع کرنے میں تاخیر نہ کریں۔ جو لوگ اس کام کی اہمیت سمجھتے اور اس میں معاون ہو سکتے ہیں جلد آپ تک خود ہی پہنچ جائیں گے۔‘‘ سلمان بھی دل کی گہرائی سے اس حقیقت پر یقین رکھتا ہے۔

Thanks for rating this! Now tell the world how you feel via Twitter.
How does this Article make you feel ?
  • Excited
  • Fascinated
  • Amused
  • Bored
  • Sad
  • Angry